بدھ‬‮ ، 11 مارچ‬‮ 2026 

بھارت کا پاکستانی پنجاب کو ریگستان میں تبدیل کرنے کا منصوبہ مکمل،حکمران سوتے رہے ،دشمن کامیاب ،افسوسناک انکشافات

datetime 12  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

سیالکوٹ (مانیٹرنگ ڈیسک) بھارتی آبی جارحیت ، سندھ طاس معاہدہ کی سنگین خلاف ورزی ،ستلج ،راوی ،بیاس کا مکمل اور چناب کا 50ہزار کیوسک پانی روک لیا۔ چاروں دریاؤ ں سے برآمد ہونے والی 90نہریں مکمل طور پر بند ، بھارت کا پنجاب کو ریگستان میں تبدیل کرنے کا منصوبہ پایہ تکمیل کے قریب پہنچ گیا۔ تفصیلات کے مطابق 1960ء کی دہائی میں پاک بھارت سندھ طاس معاہدہ کے تحت دونوں ممالک میں طے پایا تھا کہ بھارت دریائے چناب میں 55ہزار کیوسک پانی چھوڑنے کا پابند ہوگا۔

جس کے برعکس بھارت نے مقبوضہ جموں کشمیر اور ہماچل پردیش میں ڈیم تعمیر کرکے ان کے لیول کو اپ کرنے کیلئے دریائے چناب کا پانی روک لیا ہے۔ اور ہیڈ مرالہ کے مقام پر دریائے چناب میں 55ہزار کی بجائے 5461کیوسک پانی کی آمد ریکارڈ کی جارہی ہے۔ سندھ طاس معاہدے سے قبل بھارت کی طرف سے دریائے بیاس میں 12ہزار کیوسک ،دریائے ستلج میں 10ہزار کیوسک اور دریائے راوی میں 15ہزار کیوسک پانی کی آمد حریف کی فصل کی کاشت کیلئے درکار ہوتا تھا۔تاہم سندھ طاس معاہد ہ کی رو اور عالمی قوانین کے تحت ستلج ، بیاس اور راوی میں پائے جانے والے آبی جانوروں اور پرندوں کی زندگی کو بحال رکھنے کیلئے پانی چھوڑنا ضروری ہے بھارت نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ستلج ،بیاس اور راوی پر ڈیم تعمیر کرکے ان کا مکمل طور پر پانی رو ک لیا ہے جس کے باعث مذکورہ تین دریائے ریگستان کی صورت اختیار کرگئے ہیں اور وہاں پر پائے جانے والے آبی جانور اور پرندے ہلاک ہوچکے ہیں۔جبکہ دریائے چناب کے ڈیم ہیڈ مرالہ ،ہیڈ خانکی، ہیڈ قادر آباد، ہیڈ تریموں اور ہیڈ پنجند سے برآمد ہونے والی نہریں حریف کی فصل کیلئے مکمل طور پر بند ہوگئی ہیں۔نہر اپر چناب میں 18ہزار کیوسک کی بجائے 4182کیوسک پانی چھوڑا جارہاہے اور ہیڈ خانکی کے مقام پر ایل سی سی کو رواں رکھنے کیلئے دریائے جہلم سے لوئیر چناب کے

ذریعے پانی حاصل کیا جارہاہے۔ اسی طرح دریائے راوی ،دریائے ستلج، دریائے بیاس سے برآمد ہونے والی90 کے قریب نہریں مکمل طور پر خشک سالی کا شکار ہیں جس سے پنجاب کے گوجرانوالہ ریجن ،فیصل آباد ریجن، لاہور ریجن ،ملتان ریجن، بہاوپور ریجن، بہاولنگر ریجن، رحیم یار خان ریجن کی کروڑ ایکٹر اراضی پر حریف کی فصل کو نہری پانی دستیاب نہ ہونے کی بناء پر کاشتکارووں کو ٹیوب ویلز کے ذریعے مہنگا ترین پانی استعمال کرنا ہوگا۔ جس سے زرعی ملک میں مہنگائی کا طوفان برپا ہوگا۔



کالم



مذہبی جنگ


رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…