اتوار‬‮ ، 11 جنوری‬‮ 2026 

بوٹوکس کا متبادل، صوتی لہروں کی مدد سے فیشل

datetime 20  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بوٹوکس ٹریٹمنٹس کے منفی اثرات کی وجہ سے ماہرین اس کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کا مشورہ دیتے ہیں تاہم جدید طرز کے فیشل کی موجودگی میں امکان ہے کہ بوٹوکس کی ضرورت ہی باقی نہ رہے گی۔ یہ جدید فیشل فزکس کے اصولوں کے تحت جلد پر صوتی لہروں سے پیدا ہونے والی جھنجھناہٹ کو پیدا کرنے کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ اس مقصد کیلئے خصوصاً تیار کئے جانے والے فورکس استعمال کئے جاتے ہیں۔ اس فیشل ”ٹیوننگ فورک فیشئل“ کا نام دیا گیا ہے۔ لندن کی مختلف بیوٹی کلینکس میں حال ہی میں متعارف کروائے گئے اس فیشئل میں چہرے پر مختلف لمبائی اور چوڑائی کے حامل کانٹوں کو اس طرح کھڑا کیا جاتا ہے کہ ان سے مختلف طاقتوں کی لہریں پیدا ہوتی ہیں۔ یہ لہریں ہی چہرے کی جلد سے بڑھتی عمر کے اثرات، کیل چھائیاں مہاسے، آنکھوں کے گرد حلقے، کھلے مسام سمیت جلد کے وہ تمام مسائل حل کردیتی ہیں جن کیلئے عام طور پر بوٹوکس کا سہارا لیا جاتا ہے۔
یہ ٹریٹمنٹ امریکہ سے برطانیہ میں متعارف ہوا ہے اور اسے ایجاد کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ دراصل آواز کی لہریں ان کانٹوں سے ہوتی ہوئی جلد کے اندر توانائی کے راستوں کے ذریعے داخل ہوتی ہیں جس سے انسانی فزیالوجی پر اثرات ڈالے جاتے ہیں۔ انسانی فزیالوجی پر اثراندازہونا عام طور پر کافی مشکل تصور کیا جاتا ہے۔ اس فیشئل کو لینے والی خواتین کا کہنا ہے کہ فیشل کے حوالے سے کئے گئے دعووں کے بارے میں کوئی تبصرہ تو کچھ وقت کے بعد ہی کیا جاسکتا ہے تاہم انہوں نے خود کو اس ٹریٹمنٹ کے بعد زیادہ پرسکون محسوس کیا ہے۔ اس سے دوران خون بھی بہتر ہوتا ہے جس سے جلد کی صحت خود بخود ہی بہتر اور اس میں قدرتی چمک پیدا ہوجاتی ہے۔ کانٹوں کے نام پر اس فیشل میں استعمال کیلئے کھانے پینے میں استعمال کئے جانے والے نوکیلے کانٹوں کا تصور ذہن میں آتا ہے تاہم یہ بالکل ویسے ہی کانٹے ہوتے ہیں جنہیں سکول میں آواز کی لہروں کو محسوس کروانے کیلئے بچوں کو تجربے کیلئے دیئے جاتے ہیں۔ ایک فیشل میں تقریباً ایک درجن کے قریب یہ کانٹے استعمال کئے جاتے ہیں۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کے نام بے حد منفرد ہیں۔ ان میں سے ایک زمین، دوسرا سورج اور ایک نیا چاند ہے۔ اس فیشل کو ایجاد کرنے والوں کا کہنا ہے کہ یہ فیشل دراصل چین کے آکوپکنچر طریقے کار کے مطابق ہی کام کرتا ہے اور اس میں بھی چہرے کے ان بارہ حصوں کو تلاش کیا جاتا ہے جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان پر اثر ڈالنے سے چہرے کی خوبصورتی لوٹائی جاسکتی ہے۔ اس کانٹے کے علاوہ اس فیشئل کو مزید موثر بنانے کیلئے ان حصوں میں باریک نوک کی سوئیاں بھی معمولی سی چبھوئی جاتی ہیں۔ اس فیشئل کے ماہرین کا کہنا ہے کہ سوئی چبھونے کا عمل جسم میں دوڑتے توانائی کے کرنٹ کے راستے میں رکاوٹیں پیدا کرنا ہے۔ جوابی ردعمل کے باعث جلد پر نمودار ہونے والی قبل از وقت جھریاں، آنکھوں کے نیچے پیدا ہونے والی سوجن وغیرہ کا خاتمہ ہوجاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا


والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…