جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ڈپٹی وزیر اعظم اور نائب وزیر اعلیٰ کے عہدوں کی تخلیق،فیصلہ سنادیاگیا

datetime 7  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی )سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے ڈپٹی وزیر اعظم اور ڈپٹی وزیر اعلیٰ سے متعلق آئینی ترمیمی بل مسترد کردیا، جس میں وزیراعظم کے علالت، بیرون ملک دورے یا انتقال کی صورت میں قائم مقام وزیر اعظم کے عہدے کی ضرورت پر زور دیا گیاتھا۔ سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ وزیر اعظم کی عدم موجودگی میں اگر کوئی وزیر سینئر ترین وفاقی وزیر بنتا ہے

تو وزیراعظم کی واپسی پر یہ عہدہ ختم ہوجاتا ہے۔سینیٹر بیرسٹرمحمد علی سیف نے کہا کہ اگر وزیراعظم کا قتل ہو یا شدید علیل ہو تو برطانیہ نے قانون بنایا کہ ایک ایمرجنسی کابینہ ایسے موقع پر بنے،ایک وقت تھا کہ چوہدری پرویز الہی خود کو ڈپٹی وزیر اعظم کہتے تھے، نیب کے قوانین میں ترامیم کے حوالے سے بننے والی کمیٹی میں اب میں نہیں جاتا، انہوں نے نیب کے احتساب سے ججوں اور جرنیلوں کو نکال دیا اب وہاں جانے کا فائدہ نہیں۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ جو صوبہ چاہے سی سی آئی کا اجلاس بلاسکتا ہے ،اگلی بریفنگ 16 نومبر کو ہے، جس میں ہم نے چیئرمین نیب کو بلایا ہے، جاننا چاہتے ہیں کہ چیئرمین نیب کے کیا عزائم ہیں،ہم چیئرمین نیب سے پوچھیں گے کہ صوبوں میں احتساب کے لیے ان کے کیا پلان ہیں۔منگل کو قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف کا اجلاس جا وید عباسی کی صدارت میں ہوا جس میں آئین کے آرٹیکل 95 اے میں ترمیم پر بحث ہوئی ۔بل محسن لغاری نے کمیٹی میں پیش کیا

۔جس چیئرمین کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے استفسار کیا کہ دنیا کے کیا دیگر ممالک میں یہ روایت ہے کہ اگر وزیراعظم ملک سے باہر ہو تو کوئی قائم مقام وزیر اعظم بھی بنتا ہے کہ نہیں، سینیٹر فاروق نائیک نے کہا کہ وزیر اعظم کی عدم موجودگی میں اگر کوئی وزیر سینئر ترین وفاقی وزیر بنتا ہے تو وزیراعظم کی واپسی پر یہ عہدہ ختم ہوجاتا ہے، سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا کہ اگر وزیراعظم کا قتل ہو یا شدید علیل ہو تو برطانیہ نے قانون بنایا کہ ایک ایمرجنسی کیبنٹ ایسے موقع پر بنے، ایک وقت تھا کہ چوہدری پرویز الہی خود کو ڈپٹی پرائم منسٹر کہتے تھے، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے قانون و انصاف نے آرٹیکل 95 اے میں ترمیم کا بل مسترد کردیامشترکہ مفادات کونسل میں تمام صوبوں کی برابر نمائندگی کے حوالے سے آئینی بل پر بحث ہوئی ، بل آئین کے آرٹیکل 153 میں ترمیم سے متعلق تھا ، کمیٹی نے بل پر وزارت قانون سے جواب طلب کرلیا ۔ مشترکہ مفادات کونسل میں تمام صوبوں کی برابر نمایندگی کا بل سینیٹر مرتضی وہاب نے پیش کیا ۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر جاوید عباسی نے کہا کہ جو صوبہ چاہے سی سی آئی کا اجلاس بلاسکتا ہے ،اگلی بریفنگ 16 نومبر کو ہے، جس میں ہم نے چیئرمین نیب کو بلایا ہے، جاننا چاہتے ہیں کہ چیئرمین نیب کے کیا عزائم ہیں،ہم چیئرمین نیب سے پوچھیں گے کہ صوبوں میں احتساب کے لیے ان کے کیا پلان ہیں،سینیٹر بیرسٹر سیف نے کہا کہ نیب کے قوانین میں ترامیم کے حوالے سے بننے والی کمیٹی میں اب میں نہیں جاتا، انہوں نے نیب کے احتساب سے ججوں اور جرنیلوں کو نکال دیا اب وہاں جانے کا فائدہ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…