اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

بھائی صاحب ! بس ۔ اب بہت ہوگیا،شہبازشریف کے صبر کا پیمانہ لبریز،چوہدری نثار نے بھی تیاریاں کرلیں،خبر رساں ادارے کے حیرت انگیزانکشافات

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آن لائن) وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہبازشریف نے عام انتخابات2018ء میں میاں نوازشریف سے وزیراعظم بنانے کا مطالبہ کردیا ، وزیراعظم کی لندن روانگی اورشہبازشریف سے اہم ملاقات سے مسلم لیگ (ن) کے اندر تشویش کی لہر دوڑ گئی ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ

سابق وزیراعظم نوازشریف نے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کو ٹاسک دیا ہے کہ شہبازشریف کو راضی کرکے نہ صرف واپس لے آئیں بلکہ ان کی ہدایت پر حکومت کے اندر ممکنہ اکھاڑ پچھاڑ بھی کردی جائے تاکہ پارٹی معاملات مزید خراب نہ ہوں۔ دوسری جانب سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان کی روش سے بھی پارٹی میں شدید اضطراب کی صورتحال پائی جاتی ہے اور یقین کیا جارہا ہے کہ شہبازشریف ہی چوہدری نثار علی خان کو پارٹی قیادت کے فیصلوں کیخلاف نہ بولنے پر راضی کرسکتے ہیں کیونکہ پارٹی رہنما سمجھتے ہیں کہ چوہدری نثار علی خان کا موقف سوفیصد درست ہے جس کے باعث پارٹی کے اندر علیحدہ سوچ بڑی تیزی سے سراعیت کررہی ہے ۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ شہبازشریف وزیراعظم کی تبدیلی کے فی الفور حامی ہیں اورانہوں نے میاں نوازشریف سے آئندہ عام انتخابات2018ء میں خود کو وزیراعظم بنانے کا بھی مطالبہ کررکھا ہے جس کے باعث نوازشریف نے پاکستان آکر یہ اہم فیصلہ لیناتھا مگر انہوں نے چند رفقاء کے مشورے کے بعد یہ فیصلہ بدل لیا جس کے باعث شہبازشریف وطن واپس نہ آئے اور لندن میں ہی بیٹھ گئے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…