جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ہم اب دھماکوں کا الزام پاکستان پر نہیں لگاتے،اشرف غنی اور جنرل قمر باجوہ کی طویل گفتگومیں کیا طے پایا؟افغان سفیر کے انکشافات

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) افغان سفیر عمر زاخیل وال نے کہاہے کہ یکم اکتوبر سے افغانستان کے پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کے دورے کے بعد پیشرفت ہورہی ہے تاہم اس وقت تک کوئی بہت بڑ ی تبدیلی سامنے نہیں آئی ایک ملاقات میں سالوں کی بد اعتمادی ختم نہیں ہوسکتی لیکن ہمیں امید ہے کہ آئندہ ہفتوں اور مہینوں میں کئی اہم اقدامات اٹھائے جاسکتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں یہ سوچ پیدا ہوناکہ ماضی میں غلطیاں ہوئی ہیں یہ بھی ایک بڑی تبدیلی ہے ۔

پاکستانی فوجی رہنماؤں کیساتھ ان کی ملاقاتوں سے متعلق سوال پر افغان سفیر نے کہاکہ دونوں کے درمیان کھلے انداز میں گفتگو ہوتی ہے اور ایک دوسرے کیساتھ خدشات کا تبادلہ ہوتا ہے ۔پاکستان کو بھی افغانستان سے متعلق بہت سے شکوک ہیں اور ہمیں بھی بہت گلے ہیں لیکن یہ اچھی بات ہے کہ دونوں ممالک ان معاملات پر بات چیت کررہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ افغانستان چاہتا ہے کہ پاکستان طالبان پر اپنا اثرررسوخ ٗ امن مذاکرات اور مثبت چیزوں کیلئے استعمال کرے ۔انہوں نے کہاکہ اس وقت دونوں ممالک کے درمیان بد اعتمادی اور شکوک کی فضا موجود ہے لیکن دونوں ممالک کے پاس اس کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں ہے کہ بد اعتمادی کو ختم کیاجائے ۔افغان سفیر نے کہاکہ افغانستان میں چند مہینوں میں ہونے والے دہشتگردی کے واقعات کے بعد پاکستان پر ماضی کی طرح الزامات نہیں لگائے گئے جو کہ ایک مثبت پیشرفت ہے ۔اگر پاکستان افغانستان میں جنگ کے خاتمے کیلئے اقدامات اٹھائے تو اعتماد کی فضا مزید بہتر ہوسکتی ہے ۔عمرزاخیل وال نے کہاکہ جنرل قمر باجوہ کے افغانستان کے دورے کے بعد مختلف سطح پر ملاقاتیں اوررابطے ہوئے ہیں اور یہ جاری رہیں گے ۔انہوں نے کہاکہ تقریباً دو ہفتے پہلے جب انہوں نے جنرل باجوہ سے ملاقات کی تھی تو اس دور ان صدر اشرف غنی اور جنرل باجوہ کی تقریباً بیس ٗ پچیس منٹ تک ٹیلیفون پر بات ہوئی تھی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…