جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

ن لیگ اور پی ٹی آئی کا کوئی مستقبل نہیں، جتنا پیسہ ایم کیو ایم کو ملا اس سے تقدیر بدل سکتی تھی، پی پی کے رہنماؤں کے انکشافات

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکر ٹری وقار مہدی ،رکن سندھ اسمبلی سعید غنی اور راشد ربانی نے کہا ہے کہ کراچی میں ماضی میں لوگوں نے کفن باند ھ کر پیپلز پارٹی کی سیاست کی۔ ایم کیو ایم آج بھی کسی نہ کسی طرح وفاقی حکومت کا حصہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے ہفتہ کو پیپلز پارٹی ضلع کورنگی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وقار مہدی نے

کہا کہ شاہ فیصل کالونی کے جیالوں کا پیپلزپارٹی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بلا رنگ و نسل بلا تفریق عوام کی خدمت کی۔ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو نے اپنی حکومت میں سوشل ایکشن پروگرام کے تحت ہر ضلع میں پروگرام کئے ۔ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو نے کراچی کو پیکیج دیا۔ موجودہ حکومت کے کراچی میں 50 ارب سے زائد ترقیاتی کام چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1987 سے ہر حکومت میں حصہ لینے والوں نے کراچی کو کیا دیا ؟ ایم کیو ایم آج بھی کسی نہ کسی طرح وفاقی حکومت کا حصہ ہے ۔35 سال تک کراچی کے ساتھ زیادتی کسی اور نے نہیں بلکہ گولی کے زور پر سیاست کرنے والوں نے کی۔ سعید غنی نے کہا کہ آج بھی لوگ پیپلزپارٹی میں شامل ہو رہے ہیں لیکن ان کے لئے مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں۔ جتنا پیسہ ایم کیو ایم کو ملا شہر کی تقدیر بدل سکتی تھی۔ شہر میں ن لیگ یا پی ٹی آئی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ آنے والے انتخاب میں شہر میں پہلے نمبر پر پیپلزپارٹی ہوگی متحدہ دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہو گی۔پیپلزپارٹی نے قلیل وقت میں شہر کراچی کیلیے بڑے ترقیاتی کام کیے۔ میرے لیے پی ایس 114 میں مشکلات کھڑی کی گئیں لیکن لوگوں نے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا۔ماضی میں جو حالات تھے اسکے باوجود لوگ پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے رہے ۔کراچی میں ماضی میں لوگوں نے کفن باند ھ کر پیپلزپارٹی کی سیاست کی۔ راشد ربانی نے کہا کہ پیپلزپارٹی رجعت پسندی کا مقابلہ کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ پیپلزپارٹی پاکستان کی خوشحالی کے لئے کسی قدم سے گریز نہیں کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…