اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

ن لیگ اور پی ٹی آئی کا کوئی مستقبل نہیں، جتنا پیسہ ایم کیو ایم کو ملا اس سے تقدیر بدل سکتی تھی، پی پی کے رہنماؤں کے انکشافات

datetime 5  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے جنرل سیکر ٹری وقار مہدی ،رکن سندھ اسمبلی سعید غنی اور راشد ربانی نے کہا ہے کہ کراچی میں ماضی میں لوگوں نے کفن باند ھ کر پیپلز پارٹی کی سیاست کی۔ ایم کیو ایم آج بھی کسی نہ کسی طرح وفاقی حکومت کا حصہ ہے ۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے ہفتہ کو پیپلز پارٹی ضلع کورنگی کے علاقے شاہ فیصل کالونی میں کارنر میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔وقار مہدی نے

کہا کہ شاہ فیصل کالونی کے جیالوں کا پیپلزپارٹی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ہے۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ بلا رنگ و نسل بلا تفریق عوام کی خدمت کی۔ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو نے اپنی حکومت میں سوشل ایکشن پروگرام کے تحت ہر ضلع میں پروگرام کئے ۔ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو نے کراچی کو پیکیج دیا۔ موجودہ حکومت کے کراچی میں 50 ارب سے زائد ترقیاتی کام چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ 1987 سے ہر حکومت میں حصہ لینے والوں نے کراچی کو کیا دیا ؟ ایم کیو ایم آج بھی کسی نہ کسی طرح وفاقی حکومت کا حصہ ہے ۔35 سال تک کراچی کے ساتھ زیادتی کسی اور نے نہیں بلکہ گولی کے زور پر سیاست کرنے والوں نے کی۔ سعید غنی نے کہا کہ آج بھی لوگ پیپلزپارٹی میں شامل ہو رہے ہیں لیکن ان کے لئے مشکلات کھڑی کی جاتی ہیں۔ جتنا پیسہ ایم کیو ایم کو ملا شہر کی تقدیر بدل سکتی تھی۔ شہر میں ن لیگ یا پی ٹی آئی کا کوئی مستقبل نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ آنے والے انتخاب میں شہر میں پہلے نمبر پر پیپلزپارٹی ہوگی متحدہ دوسرے یا تیسرے نمبر پر ہو گی۔پیپلزپارٹی نے قلیل وقت میں شہر کراچی کیلیے بڑے ترقیاتی کام کیے۔ میرے لیے پی ایس 114 میں مشکلات کھڑی کی گئیں لیکن لوگوں نے پیپلزپارٹی کو ووٹ دیا۔ماضی میں جو حالات تھے اسکے باوجود لوگ پیپلزپارٹی کے ساتھ کھڑے رہے ۔کراچی میں ماضی میں لوگوں نے کفن باند ھ کر پیپلزپارٹی کی سیاست کی۔ راشد ربانی نے کہا کہ پیپلزپارٹی رجعت پسندی کا مقابلہ کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ پیپلزپارٹی پاکستان کی خوشحالی کے لئے کسی قدم سے گریز نہیں کرے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…