جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پنجاب بھر کے ڈی ایچ کیو میں جدید ترین سی ٹی سکین مشینوں کی فراہمی کا منصوبہ اپنی تکمیل کی جانب رواں دواں

datetime 4  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

لاہور(ویب ڈیسک)عوام کو معیاری اور مفت طبی سہولیات مہیا کرنا حکومت پنجاب کا اولین ترجیح رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ صوبہ بھر میں ہسپتال کی تعمیر و توسیع کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے اور حکومتی کاوشوں میں ہسپتالوں کو جدید ترین ٹیکنالوجی کی فراہمی بھی سرفہرست ہے۔اور یوں حکومت پنجاب بہتر تشخیص اور جدید تقاضوں کو پورا کرنے کیلئے پنجاب بھر کے 36ڈی ایچ کیومیں بین الاقوامی معروف کمپنی ہٹاچی کی

نئی جدید سی ٹی سکین مشینیں فراہم کر رہی ہے۔پانچ نئی جدیدسی ٹی سکین میشنیں قصور، وہاڑی، لیہ،بھکر اور میانوالی کے ڈی ایچ کیو میں انسٹال کی جاچکی ہیں جبکہ پانچ پورٹ پر پہنچ چکی ہیں آئندہ چند دنوں میں جن کی انسٹالیشن کا کام بھی مکمل ہوجائیگا حکومت پنجاب مارچ 2018تک تمام 36ڈی ایچ کیو کو ہٹاچی کی جدید سی ٹی سکین مشینوں سے آراستہ کرنے کیلئے پُرعزم ہے۔ جدید ترین ٹیکنالوجی کی حامل اِس سٹی سکین کی مالیت چار کروڑ فی کس ہے،اِس مشینیوں کی انسٹالیشن،اپرٹینگ اور دیکھ بھال اِسی جاپانی کمپنی ہٹاچی کے ذمے ہو گی ۔ایسے امراض جن کی تشخیص مکمل نہیں ہو پاتی تھی یا تسلی بخش نہیں ہو پاتی تھی اور وقت بھی زیادہ درکار ہوتا تھا۔اب قلیل وقت میں کسی بھی پیچیدہ مرض کی صحیح تشخیص ہو سکے گی۔ اورمریضوں کواطمینان بخش علاج معالجہ مہیا کیا جا سکے گا،اُمید ہے کہ مریضوں کو اب مستقبل میں اِس ٹیسٹ کے حوالے سے کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔واضح رہے کہ پرائیوئٹ لیبارٹری میں سی ٹی سکین ٹیسٹ کے کم از کم چارجز 15,000روپے ہیں ،جسے حکومت اپنے مریضوں کو بالکل مفت فراہم کر رہی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…