جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستانی عوام ایک لیٹر پٹرول پر کتنے روپے ٹیکس دیتے ہیں؟ حیرت انگیز انکشاف

datetime 3  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان میں ہر شخص سے ایک لٹر پٹرول پر 24 روپے 77 پیسے ٹیکس اور ایک لٹر ڈیزل پر 29 روپے 91 پیسے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق ایک قومی روزنامہ کی رپورٹ کے مطابق ایک ماہ میں پٹرول اور ڈیزل کے صارفین 47 ارب 16 کروڑ روپے سے زیادہ ٹیکس ادا کریں گے۔ رپورٹ کے مطابق ماہ نومبر میں پٹرول پر صارفین مجموعی طور پر 18 ارب 91 کروڑ 15 لاکھ روپے

جبکہ ڈیزل پر 28 ارب 25 کروڑ 28 لاکھ روپے ٹیکس کی مد میں حکومت کو دیں گے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکم نومبر سے اضافہ کی وجہ سے عوام پر مزید بوجھ بڑھ گیا ہے مگر اس سے حکومت کی ٹیکس آمدنی بھی بڑھ گئی ہے۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں کیلئے طے کردہ فارمولے کے تحت پٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت صرف 45 روپے 91 پیسے ہے جس پر حکومت دس روپے فی لٹر پٹرولیم لیوی وصول کر رہی ہے جبکہ سیلز ٹیکس کے نام پر بھی 11 روپے 4 پیسے فی لٹر لیے جا رہے ہیں اس کے علاوہ ان لینڈ فریٹ ایکولائزیشن مارجن کی مد میں پٹرول پر فی لٹر 3 روپے 14 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں جبکہ ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں بھی پٹرول پر 59 پیسے فی لٹر عوام کی جیب سے نکالے جا رہے ہیں۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق حکومتی ٹیکسز کے علاوہ پٹرول کے ایک لٹر پر ڈسٹری بیوٹر مارجن کی مد میں 2 روپے 55 پیسے اور ڈیلرز کمیشن کی مد میں 3 روپے 35 پیسے عوام دے رہے ہیں۔ اس طرح ریفائنری سے 45 روپے 91 پیسے کی لاگت سے نکلنے والا پٹرول کسی موٹر سائیکل اور گاڑی کی ٹینکی میں جانے تک 76 روپے لٹر تک جا پہنچتا ہے، رپورٹ کے مطابق ڈیزل کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہے ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت 49 روپے 97 پیسے ہے جس پر 8 روپے فی لٹر پٹرولیم لیوی لگائی جاتی ہے اور جنرل سیلز ٹیکس ڈیزل کے ایک لٹر پر 20 روپے 2 پیسے وصول کیا جاتا ہے جبکہ آئی ایف ای ایم ایک روپے 42 پیسے اور ود ہولڈنگ ٹیکس 47 پیسے فی لٹر ہے، ڈیزل پر ڈسٹری بیوٹر مارجن 2 روپے 51 پیسے اور ڈیلرز کمیشن 2 روپے 67 پیسے فی لٹر ہے۔اس تمام فارمولے میں 49 روپے 97 پیسے فی لٹر ایکس ریفائنری قیمت والا ڈیزل پمپ پر 85 روپے لٹر تک فروخت کیا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…