اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

نواز شریف کے خلاف سرگرم قوتیں عمران خان کا کیا حشرکرنیوالی ہیں، مریم نواز نے ایسی بات کہہ دی کہ کپتان بھی ہکا بکا رہ گئے، خطرے کی گھنٹی بج اٹھی

datetime 2  ‬‮نومبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے نجی ٹی وی جیو نیوز کے اینکر منیب فاروق کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ نواز شریف کو ڈس کوالیفائی تو کر دیا گیا مگر ڈس کریڈٹ نہیں کیا جا سکا، سیاسی مخالفین ابھی تو خوشی خوشی نواز شریف کوگرانے کی کوشش میں استعمال ہو رہے ہیں مگر انہیں یہ بات سمجھ آنی چاہئے کہ نواز شریف

پھر بھی قابل قبول ہیں مگر کچھ لوگوں کو تو قبول ہی نہیں کیا جا سکتا، یہ لوگ سوچیں کہ جب نواز شریف سے لوگوں کو فراغت ہو جائے گی تو باقیوں کے ساتھ کیا حال ہو گا۔منیب فاروق نے مریم نواز سے سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ چوہدری نثار جو آپ کے انکل ہیں جو کہتے ہیں کہ انصاف عدلیہ سے ہی ملے گا تو عدلیہ پر تنقید نہ کریں، تو آپ کیوں عدلیہ پر تنقید کرتی ہیں، جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں سمجھتی ہوں کہ چوہدری نثار صاحب نے جو بات کہی وہ ہمدردی میں کہی ہو گی اس پر مجھے کوئی شک نہیں ہونا چاہئے، مگر بات دراصل یہ ہے کہ انصاف کا جو حصول ہے ، انصاف دینا یا نہ دینا تنقید یا عدم تنقید سے مشروط ہے؟ آپ تنقید کریں گے تو آپ کو انصاف نہیں ملے گا، اگر آپ تنقید نہیں کریں گے تو آپ کو انصاف ملے گا، یہی تو میں کہہ رہی ہوں آپ کو کہ ہمارے لئے انصاف کا یہ معیار ہےکہ ہم تنقید کریں گے تو انصاف نہیں ملے گا، اس کا مطلب ہے کہ ادھر غصہ ہے، فیصلہ غصے میں دیا گیا، عجلت میں دیا گیا، میں بھی یہی کہہ رہی تھی، منیب فاروق نے اس موقع پر این اے 120کے الیکشن کے حوالے سے سوال کرتے ہوئے مریم نواز سے پوچھا کہ لوگوں نے آپ کو پذیرائی دی اور ن لیگ نے ضمنی انتخاب جیت لیا، ضمنی انتخاب کا ریکارڈ رہا ہےکہ 92سے 95فیصد حمزہ شہباز نے ضمنی انتخابات کی کمپین

کی سربراہی کی مگرایسا کیا ہوا کہ اس الیکشن میں حمزہ شہباز کمپین میں نظر نہیں آئے اور باہر چلے گئے جبکہ کمپین کا سربراہ پرویز ملک کو بنا دیا گیا جس پر مریم نواز کا کہنا تھا کہ میری معلومات کے مطابق حمزہ شہباز ذاتی وجوہات کی بنا پر باہر چلے گئے تھے، حمزہ شہباز کی قیادت میں کئی ضمنی انتخابات ہوئے جس میں کامیابی ملی۔منیب فاروق نے سوال کیا کہ شہباز شریف

کو آپ اپنا ہیرو کہتی ہیں مگر ان کی بات نہیں مانتی وہ افہام و تفہیم کی تلقین کرتے ہیںمگر آپ اس بات کو ماننے کیلئے تیار نہیں، مریم نواز آتی ہیں اور اپنی تقریر میں کچھ نادیدہ قوتوں کے سرگرم ہونے کی بات کرتی ہیں جس پر جواب دیتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ میں اس لئے یہ بات کرتی ہوں کہ میں نے وہاں پر ان چیزوں کا سامنا کیا تھا، میں نے انتخابات میں فتح کے

بعد تقریر میں جو بات کہی وہ چیزیں میں نے حلقہ این اے 120کی انتخابی مہم کے دوران خود دیکھیں یعنی ’’مریم نواز بمقابلہ ہر کوئی‘‘ اور اگر یہ 2018کے انتخابات میں ایسا کچھ ہوا تو یہ پھر لیڈر شپ کا کام ہے کہ وہ فیصلہ کریں کہ جہاں سے یہ چیزیں ہو رہی ہیں ان کو تدارک کیسے کرنا ہے، میرے خلاف این اے 120کے انتخابات سے دو تین ہفتے قبل ہی سازش تیار کرلی گئی تھی،

حلقہ این اے 4میں بھی یہی چیزیں سامنے آئیں، اگر چھپانے کیلئے کچھ نہیں تھا تو پھر میڈیا اور آزاد مبصرین کو این اے 4کے انتخابات میں کیوں رسائی نہیں دی گئی جس کا مطلب ہے کہ کچھ ایسا تھا جو چھپایا جا رہا ہے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے خلاف مقدمات ایک عدالت سے دوسری اور پھر تیسری اور پھر چوتھی اور پھر پانچویں

عدالت میں بھیجے جاتے رہیں گے۔ ان مقدمات کی جب تک کوئی صورت واضح نہیں ہو جاتی اور ثبوت بنا نہیں لئے جاتے یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ پانامہ نہ تو کرپشن کا ایشو تھا، نہ منی لانڈرنگ اور نہ ہی اختیارات سے تجاوز کا کیس تھا بلکہ جن لوگوں نے پانامہ لیکس کی تحقیقات کر کے اسے شائع کیا وہ بھی یہی کہتے رہے کہ اس میں اطلاع ہے کچھ غلط نہیں،

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…