اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

حکومت کیخلاف سازش کرنیوالے فوجی کون ہیں؟وفاقی وزیرداخلہ احسن اقبال کھل کرسامنے آگئے،نشاندہی کردی

datetime 31  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) وفاقی وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور فوج کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوں،پاکستان کو آمروں نے اپنی حکومت کو طول دینے کیلئے جنگوں کے اندر جھونکا،جو فوجی وردی پہن کر سیاست کرتے رہے وہ وردی اتارنے کے بعد سیاستدان بن کریہ کوشش کرتے ہیں کہ حکومت اور افواج کے درمیان غلط فہمی پیدا کی جائے

،موجودہ فوجی قیادت اس بات کا اعلان کر چکی ہے کہ ان کی آئین و جمہوریت کے ساتھ مکمل وابستگی ہے، ایسے لوگ جو غیر آئینی اقدام کی آس لگا کر بیٹھے ہیں ناکام ہوں گے،پاکستان کے پیچھے رہ جانے کی وجہ جمہوری نظام کا تسلسل نہ ہونا ہے، ہمارے پاس بہترین منصوبے تھے، بہترین ذہن تھے لیکن پاکستان کو بیرونی پھندے میں پھنسالیا گیا،چین کی کامیابی کے فلسفے کو سیکھنے کی ضرورت ہے، اکیسویں صدی ایشیاء کی ہے،جس ملک میں طاقت کا توازن بدلتا ہے تو سٹیٹس کو کی قوتیں مزاحمت کرتی ہیں اور استہ بدلنے کی کوشش کرتی ہیں، کچھ چین کے دشمن ہیں اور کچھ پاکستان کے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں،ہمیں جیو پالیٹکس کی بجائے جیو اکنامک کا حصہ بننا ہے،پاکستان اور چین کے دشمن ترقی کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔وہ منگل کو تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ میڈیا پر چند ناکام سیاستدان اور ریٹائرڈ سروس مین ہمیں آ کرپڑھاتے ہیں کہ سیاست کیسے کرنی ہے، کچھ لوگ یہ چاہتے ہیں کہ حکومت اور فوج کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوں،

تانگہ پارٹی کے ناکام سیاستدان چور دروازے سے اقتدار میں آنا چاہتے ہیں، ایک ریٹائرڈ ایئر مارشل صاحب ہمیں سیاست کرنا سیکھا رہے ہیں، وہ یہ بتائیں کہ جہاز کیسے مضبوط ہوتے ہیں، اس کا مطلب ہے کہ وہ دوران ملازمت بھی فوجی وردی پہن کر سیاست کرتے رہے ہیں، ایسے لوگ جو وردی اتارنے کے بعد سیاستدان بن جاتے ہیں یہ کوشش کرتے ہیں کہ حکومت اور افواج کے درمیان غلط فہمی پیدا کی جائے اور مسلح افواج کو ابھارا جائے کہ وہ کوئی غیر آئینی اقدام کریں، ایسے لوگ ملک کے مفاد کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ فوجی قیادت اس بات کا اعلان کر چکی ہے کہ ان کی آئین و جمہوریت کے ساتھ مکمل وابستگی ہے، ایسے لوگ جو غیر آئینی اقدام کی آس لگا کر بیٹھے ہیں ناکام ہوں گے،20ویں صدی سیاسی نظریات کی صدی تھی، یہ وہ زمانہ تھا جب دنیا سیاسی نظریات پر تقسیم ہوئی۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کے پیچھے رہ جانے کی وجہ جمہوری نظام کا تسلسل نہ ہونا ہے، ہمارے پاس بہترین منصوبے تھے، بہترین ذہن تھے لیکن پاکستان کو بیرونی پھندے میں پھنسالیا گیا، جب ہم امریکہ کی سوویت یونین کے خلاف جنگ لڑی تو اس کی ٹرافی امریکہ کو ملی، ہمارے حصے میں 35لاکھ مہاجرین، منشیات اور کلاشنکوف کلچر آیا اور پاکستان کے حصے میں بدحالی اور بدامنی آئی۔ احسن اقبال نے کہا کہ چین کی کامیابی کے فلسفے کو سکیھنے کی ضرورت ہے، اکیسویں صدی ایشیاء کی ہے،

چین کی فی کس آمدنی 8000ڈالر اور پاکستان کی 1600ڈالر ہے، جس ملک میں طاقت کا توازن بدلتا ہے تو سٹیٹ کو کی قوتیں مزاحت کرتی ہیں اور استہ بدلنے کی کوشش کرتی ہیں، کچھ چین کے دشمن ہیں اور کچھ پاکستان کے جو ترقی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا چاہتے ہیں، چین کے کامیابی کے فلسفے کو سیکھنے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ دنیا کا ہر ملک دولت کی افزائش اور تقسیم پر اپنی تنظیم نو کر رہا ہے، ہمیں جیو پالیٹکس کی بجائے جیو اکنامک کا حصہ بننا ہے،پاکستان اور چین کے دشمن ترقی کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں، غربت اور پسماندگی کے خاتمے کیلئے وسائل ضروری ہیں،پاکستان کو آمروں نے اپنی حکومت کو طول دینے کیلئے جنگوں کے اندر جھونکا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…