اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

اسحاق ڈار پاکستان سے کیسے فرار ہوئے، انہیں کوئی فلائیٹ ہی نہیں ملی تو کس کا جہاز لے کر چلے گئے، سینئر تجزیہ نگار کا اہم دعویٰ

datetime 31  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر تجزیہ نگار محمد مالک نے انکشاف کیا ہے کہ اسحاق ڈار اپنے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے کے بعد جس طرح ملک چھوڑ کر نکلے ہیں وہ بڑا حیران کن ہے، اسحاق ڈار نے بڑا رونا

دھونا ڈالا کہ میں نے اسلام آباد سے بھی بیرون ملک روانہ نہیں ہوناکیونکہ میں پکڑا جائوں گا، مجھے لاہور سے وزیر اعلیٰ پنجاب کے پروٹوکول میں لاہور ایئر پورٹ تک لیجایا جائے اور وہاں مجھے بٹھا کر آئیں، محمد مالک نے کہا کہ اتفاق یہ ہوا کہ دوشنبے کانفرنس بھی انہی دنوں نکل آئی، اس سے پہلے دوشنبے والی کانفرنس کے 40 دعوت نامے آئے ہوئے تھے لیکن یہ کبھی اس میں نہ گئے اور نہ ہی کسی کو بھیجنا گوارا کیا، پھر انہیں اچانک خیال آیا کہ یہ آفیشلی پاکستان سے بھاگنے کا بڑا اچھا طریقہ ہے۔ جمعے کو دوشنبے میں کانفرنس تھی اور جمعرات کی رات کو اچانک انہوں نے کہا کہ اچھا میں جا رہا ہوں، وزیر خزانہ کے ساتھ کوئی سیکرٹری لیول کا بندہ بھی نہیں گیا بلکہ حکومت نے صرف دو ڈپٹی سیکرٹری بھیجے ہوئے تھے، اسحاق ڈار کو باہر جانے کیلئے پھر بھی کوئی فلائیٹ نہیں ملی، وہ وزیر اعظم کا جہاز لے کر پاکستان سے باہر گئے اورگئے صرف اس مقصد کیلئے کہ کسی طرح وہ پاکستان سے باہر چلے جائیں اور گرفتاری سے بچ جائیں، اسحاق ڈار کو اس بات کی بہت زیادہ فکر تھی کہ میں ایئر پورٹ پر پکڑا جائوں گا، اسلئے وہ ملک سے فرار ہو گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…