ہفتہ‬‮ ، 25 جولائی‬‮ 2026 

قندیل بلو چ کوکس کے کہنے پر قتل کیا گیا ،مفتی عبدالقوی نے کیا پیشکش کی تھی؟قندیل بلوچ کے والد کے انکشافات

datetime 30  اکتوبر‬‮  2017 |

ملتان(مانیٹرنگ ڈیسک) قندیل بلوچ کے والد نے کہا ہے کہ ان کی بیٹی کو مفتی عبدالقوی کے کہنے پر قتل کیا گیا اور میں مفتی قوی کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ملتان میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن عدالت کے جج امیر محمد خان نے قندیل بلوچ قتل کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے

دوران قندیل بلوچ قتل کیس میں گرفتار ملزمان وسیم اور حق نواز عدالت میں پیش ہوئے جب کہ قندیل بلوچ کے والد عظیم ماہڑہ بھی عدالت پہنچے۔ سماعت کے دوران قندیل بلوچ قتل کیس کے تفتیشی افسر نے چالان مکمل کرنے کیلئے مہلت مانگ لی، عدالت نے 20 نومبر کو حتمی چالان پیش کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 20 نومبر تک ملتوی کردی۔اس موقع پر قندیل بلوچ کے والد عظیم ماہڑہ نے کہا کہ ان کی بیٹی کو مفتی عبدالقوی کے کہنے پر قتل کیا گیا، میں مفتی قوی کو کبھی معاف نہیں کروں گا۔ انہوں نے مزید انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ مفتی قوی نے مجھے پیسوں کی پیشکش کی کہ میں ان کا نام کیس سے نکلوادوں لیکن میں نے انکار کردیا کیونکہ میں اپنی بیٹی کے قاتلوں کو سزا دلوانا چاہتاتھا۔عظیم ماہڑہ نے قندیل کے قاتلوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ وسیم اور حق نواز نے جو گناہ کیا ہے اس کی سزا انہیں ضرور ملے گی۔ آخر میں انہوں نے عدالت سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ مفتی قوی کو سزا دے کر مجھے انصاف دلایاجائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…