جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

قرآن کریم کی محبت میں سرشارپاکستانی لڑکی نے پورا قرآن شریف ہاتھ سے تحریر کر لیا، نسخہ مسجد نبوی ﷺ میں کہاں رکھا جائیگا!!

datetime 29  اکتوبر‬‮  2017 |

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) قرآن کریم کی محبت سے سرشار راولپنڈی کی رہائشی عمارہ نے ہاتھ سے خوبصورت انداز میں کتاب الہٰی لکھ کر اہم کارنامہ انجام دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہے کہ میرا یہ نسخہ مسجد الحرام میں رکھوایا جائے۔تفصیلات کے مطابق دور جدید میں قرآن پاک کی اشاعت کا کام مشینوں

سے لیا جاتا ہے مگر راولپنڈی کی رہائشی ایک عاشق قرآن لڑکی ایسی بھی ہے جس کی قرآ ن پاک پڑھ کر عقیدت کی پیاس نہ بجھی تو اسے ہاتھ سے تحریر کرکے اپنے دل کو قرآن پاک کی محبت سے منور کرلیا۔مدینے جانے کی تڑپ اور آرزو میں مقدس کلام سے عقیدت کی انتہا کرنے والی عمارہ افشین نے قرآن کی رفعت و عظمت کو ایک سال کی صبر آزما محنت کے بعد اپنے ہاتھوں کی لکھائی سے اس قدر خوبصورت اور دلکش انداز سے تحریرکیا کہ لازوال کلام لاجواب قرآنی نسخہ بن گیا۔عمارہ نے ایک سال کے عرصے میں قرآن پاک کا یہ نسخہ تحریر کیا، مقدس کلام پاک سے محبت عمارہ افشین کے دل کے کیف و سرور کا ایسا باعث بنی کہ انہوں نے ہر سپارے کا منفرد رنگ اور ہر سورۃ کا دلکش انداز سے آغاز کیا۔قرآنی نسخہ میں عمارہ نے موتیوں کی طرح تحریر اور الفاظ پر اعراب لگانے کا کام بھی انتہائی نفاست اور باریک بینی سے کیا ہے، عمارہ کی خواہش ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کرے اور قرآن حکیم کا یہ شاہکار مسجد الحرام میں رکھوایا جائے۔یاد رہے کہ عمارہ افشین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں میڈل اور سرٹیفکیٹ سمیت خانہ کعبہ کا غلاف مبارک بھی بطور تحفہ مل چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…