اتوار‬‮ ، 07 جون‬‮ 2026 

قرآن کریم کی محبت میں سرشارپاکستانی لڑکی نے پورا قرآن شریف ہاتھ سے تحریر کر لیا، نسخہ مسجد نبوی ﷺ میں کہاں رکھا جائیگا!!

datetime 29  اکتوبر‬‮  2017 |

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) قرآن کریم کی محبت سے سرشار راولپنڈی کی رہائشی عمارہ نے ہاتھ سے خوبصورت انداز میں کتاب الہٰی لکھ کر اہم کارنامہ انجام دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ میری خواہش ہے کہ میرا یہ نسخہ مسجد الحرام میں رکھوایا جائے۔تفصیلات کے مطابق دور جدید میں قرآن پاک کی اشاعت کا کام مشینوں

سے لیا جاتا ہے مگر راولپنڈی کی رہائشی ایک عاشق قرآن لڑکی ایسی بھی ہے جس کی قرآ ن پاک پڑھ کر عقیدت کی پیاس نہ بجھی تو اسے ہاتھ سے تحریر کرکے اپنے دل کو قرآن پاک کی محبت سے منور کرلیا۔مدینے جانے کی تڑپ اور آرزو میں مقدس کلام سے عقیدت کی انتہا کرنے والی عمارہ افشین نے قرآن کی رفعت و عظمت کو ایک سال کی صبر آزما محنت کے بعد اپنے ہاتھوں کی لکھائی سے اس قدر خوبصورت اور دلکش انداز سے تحریرکیا کہ لازوال کلام لاجواب قرآنی نسخہ بن گیا۔عمارہ نے ایک سال کے عرصے میں قرآن پاک کا یہ نسخہ تحریر کیا، مقدس کلام پاک سے محبت عمارہ افشین کے دل کے کیف و سرور کا ایسا باعث بنی کہ انہوں نے ہر سپارے کا منفرد رنگ اور ہر سورۃ کا دلکش انداز سے آغاز کیا۔قرآنی نسخہ میں عمارہ نے موتیوں کی طرح تحریر اور الفاظ پر اعراب لگانے کا کام بھی انتہائی نفاست اور باریک بینی سے کیا ہے، عمارہ کی خواہش ہے کہ وہ اپنے خاندان کے ہمراہ عمرہ کی سعادت حاصل کرے اور قرآن حکیم کا یہ شاہکار مسجد الحرام میں رکھوایا جائے۔یاد رہے کہ عمارہ افشین کو ان کی خدمات کے اعتراف میں میڈل اور سرٹیفکیٹ سمیت خانہ کعبہ کا غلاف مبارک بھی بطور تحفہ مل چکا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



تلوم اور تلوم سے آگے


ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…