منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

ریکس ٹیلرسن کے دورے کے اثرات آنا شروع، امریکہ نے پاکستان پر پابندیوں سے متعلق اپنا فیصلہ سنادیا

datetime 26  اکتوبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(آن لائن) امر یکی محکمہ خا رجہ نے کہا ہے کہ پاکستان کی جانب سے ان کے ملک میں دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کے انکار کی وجہ سے پاکستان پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان ہیتھر نوریٹ کو پریس بریفنگ کے دوران تجویزدی گئی کہ پاکستان نے اپنے ملک میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہونے کے امریکی الزامات کو ماننے سے انکار کردیا

جس کی وجہ سے اس پر پابندیاں عائد کی جاسکتی ہیں تو اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ مستقبل کے بارے میں کوئی پیشن گوئیاں نہیں کر سکتیں۔تاہم ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کی جانب سے ان کی سر زمین پر دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کے انکار کی وجہ سے پاکستان پر پابندی عائد نہیں کی جاسکتی۔ اپنی پریس بریفنگ کے دوران انہوں نے پاک امریکا تعلقات کے لیے امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ کے دورہ اسلام آباد پر بھی تبصرہ کرنے سے انکار کردیا تھا۔تاہم امریکی میڈیا کا ریکس ٹلرسن کے دورہ پاکستان کے حوالے سے کہنا ہے کہ سیکریٹری آف اسٹیٹ کا استقبال دفترخارجہ کے درمیانی سطح کے حکام اور پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل نے راولپنڈی کے چکلالہ ایئربیس پر کیا۔امریکی سرکاری ریڈیو کا کہنا ہے کہ پاکستان میںریکس ٹلرسن کا ان کے شایانِ شان استقبال نہیں کیا جیسا کہ عموماً ایک اعلیٰ سطح کے سرکاری حکام کا استقبال کیا جاتا ہے۔جب ان سے سوال کیا گیا کہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے ٹوئٹ کیا تھا کہ سیکریٹری اسٹیٹ نے کابل میں افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کی جبکہ وہ اس وقت بگرام ایئر بیس پر موجود تھےتو اس کے جواب میں انہوں نے کہاکہ یہ ایک معمولی سے غلطی تھی۔

تاہم اسے حوالے سے امریکی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان میں قائم امریکی بیس میں سیکریٹری آف اسٹیٹ ریکس ٹلرسن اور افغان صدر اشرف غنی کی ملاقات کے بعد سرکاری طور پر جاری کی جانے والی تصویر میں ہیر پھیر کی گئی تھی جس سے یہ تاثر دیا گیا کہ ان کی ملاقات کابل میں ہوئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…