بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

’’مولوی صاحب آتے ہیں بندے مرواتے ہیں اور چلے جاتے ہیں آپ کیوں انکے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں‘‘بشریٰ انصاری کے سوال پر کپتان کا ایسا جواب کہ سن کر آپ بھی دنگ رہ جائیں گے

datetime 26  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)وہ مولوی صاحب آتے ہیں تماشہ کرتے ہیں، وہ لوگوں کو جس طرح جمع کرنے کیلئے ڈگڈی بجانی ہوتی ہے بجاتے ہیں، وہ ایک اچھے اداکار اور مقرر ہیں، لوگوں کو مروا کر وہ چلے جاتے ہیں، پھر واپس آجاتے ہیں، وہ آپ کے ساتھ کیسے کھڑے ہو جاتے ہیں، آپ ان کو کیسے اپنی کمپین اور موومنٹ میں ساتھ شامل کر لیتے ہیں، بشریٰ انصاری کے

تقریب کے دوران کپتان سے چبھتے ہوئے سوالات، ہم نے دھرنا الیکشن میں دھاندلی جبکہ طاہر القادری نے کارکنوں کے قتل کے خلاف دیا، بہت سے لوگ طاہر القادری پر تنقید کرتے ہیں مگر ان پر کرپشن کا کوئی دھبہ نہیں،فضل الرحمن ، اسفندیار ، آصف زرداری، نواز شریف جیسے کرپٹ مافیا سے طاہر القادری کئی گنا زیادہ بہتر ہیں، ساتھ ملانا پڑتا ہے، کپتان کا جواب۔ تفصیلات کے مطابق ایک تقریب کے دوران ملک کی نامور اداکارہ بشریٰ انصاری نے چیئرمین تحریک انصاف سے سوال جواب کے سیشن میں نہایت چبھتا ہوا سوال کرتے ہوئے پوچھا کہ وہ مولوی صاحب آتے ہیں تماشہ کرتے ہیں، وہ لوگوں کو جس طرح جمع کرنے کیلئے ڈگڈی بجانی ہوتی ہے بجاتے ہیں، وہ ایک اچھے اداکار اور مقرر ہیں، لوگوں کو مروا کر وہ چلے جاتے ہیں، پھر واپس آجاتے ہیں، وہ آپ کے ساتھ کیسے کھڑے ہو جاتے ہیں، آپ ان کو کیسے اپنی کمپین اور موومنٹ میں ساتھ شامل کر لیتے ہیں۔ بشریٰ انصاری کا اشارہ واضح طور پر طاہر القادری کی جانب تھا جس پر جواب دیتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کا کہنا تھا کہ ہمارا دھرنے کا پلان پہلے سے بنا ہوا تھا ، ہم الیکشن ریگنگ کے خلاف دھرنا دینے نکلے جبکہ طاہر القادری کے ماڈل ٹائون میں کارکنوں کو نہایت بیدردی سے قتل کر دیا گیا جس کے خلاف وہ دھرنے کیلئے نکلے۔ ہمارا مقصد الگ

الگ تھا ۔ بہت سے لوگ طاہر القادری پر تنقید کرتے ہیں مگر ان پر کرپشن کا کوئی دھبہ نہیں،فضل الرحمن ، اسفندیار ، آصف زرداری، نواز شریف جیسے کرپٹ مافیا سے طاہر القادری کئی گنا زیادہ بہتر ہیں۔ یہ تعداد میں کم ہیں اور ان کو ساتھ ملانا پڑتا ہے۔ اس موقع پر عمران خان نے فضل الرحمن، اسفندیار ، آصف زرداری اور نواز شریف کو مافیا سے تعبیر کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…