بیجنگ،(نیوزڈیسک) آج کل عوامی جمہوریہء چین میں انٹرنیٹ پر آن لائن ہوسٹسنگ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس میں مردوں کو چند لمحات کے لیے ایک آن لائن ساتھی میسر آ جاتا ہے اور عورتیں اچھی بھلی کمائی کر لیتی ہیں۔
بیجنگ سے نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک جائزے میں ایسی ہی ایک آن لائن ہوسٹس سیاؤ یُو کا حوالہ دیا گیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق یہ اکیس سالہ طالبہ زیادہ تر دنوں میں چار گھنٹے تک انٹرنیٹ پر اپنے پرستاروں کے ساتھ چیٹ کرتی ہے، جو جواب میں اُس پر ورچوئل پھول اور دیگر تحفے نچھاور کرتے ہیں۔
سیاؤ یُو چین کی انٹرنیٹ وَیب سائٹ بوبو ڈاٹ کام سے وابستہ دَس ہزار ہوسٹسز میں سے ایک ہے۔ یہ ہوسٹسز اس لائیو براڈکاسٹنگ وَیب پلیٹ فارم پر گیت گاتی ہیں، پیانو بجاتی ہیں، رقص کرتی ہیں یا صرف چیٹ کرتی ہیں اور اِن ہوسٹسز کے مداح ان کے رقص و موسیقی اور چیٹ کو ریکارڈ بھی کر سکتے ہیں۔
زیادہ تر ہوسٹسز گلوکارائیں ہوتی ہیں اور جن ناظرین کے لیے وہ گاتی ہیں، اُن کی نوّے فیصد تعداد مردوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان مردوں میں سے زیادہ تر کی عمریں بیس اور پینتیس سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ چیٹ وغیرہ کے دوران یہ ہوسٹسز دل کو لبھانے والی تمام حرکتیں کر سکتی ہیں لیکن ان کے لیے واضح طور پر کوئی جنسی عمل کرنا یا دکھانا ممنوع ہوتا ہے۔
سیاؤ کی نمایاں خوبی ساجیاؤ ہے، یعنی مردوں کا دل لبھانے کے لیے چینی خواتین کا وہ خاص انداز، جس میں وہ بچوں کی طرح کی حرکتیں کرتی ہیں اور بولتی بھی پتلی سی آواز میں ہیں۔ سیاؤ اپنے پرستاروں سے باتیں کرتے ہوئے درمیان درمیان میں کبھی رقص کرنا شروع کر دیتی ہے یا پھر ہیجان انگیز انداز میں اسٹرابریز کھانا شروع کر دیتی ہے۔ جواب میں اُس کے مداح اُس پر ورچوئل تحقوں کی بارش کرتے رہتے ہیں، جن کی مالیت کبھی کبھی ہزاروں یوآن ہوا کرتی ہے۔ سیاؤ مہینے میں دَس ہزار یوآن سے زیادہ (سولہ سو ڈالر) تک کما لیتی ہے۔
سیاؤ کے مطابق جس شخص نے کبھی یہ سروس استعمال نہ کی ہو، اُسے یہ سمجھانا مشکل ہو گا کہ ایسا کرنے میں کیا لطف آتا ہے:ہم ایک دوسرے کو جانتے نہیں ہوتے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ایک ناقابلِ بیان تعلق قائم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ مداح واقعی آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، جس سے آپ کی نظر میں اپنی اہمیت کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔
روئٹرز نے ایسے ہی ایک مداح کے ساتھ بھی گفتگو کی۔ ژُو پائی ہوا نے بتایا کہ اُس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ کسی گرل فرینڈ کا خرچ برداشت کر سکے:کام کے بعد گھر واپس آئیں تو ٹی وی یا فلمیں وغیرہ دیکھنے یا بستر میں پڑے رہنے کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا۔ کوئی ساتھی نہیں ہوتا، جس سے انسان بات کر سکے۔ ایسے میں یہ (ہوسٹسز) حقیقی انسان ہوتی ہیں، جن کے ساتھ مکالمہ ہو سکتا ہے۔ کوئی ہوتا ہے میرے پاس، جس سے میں بات کر سکتا ہوں۔ چین میں ایسی کمپنیوں کی تعداد پچاس کے قریب ہے، جو ویڈیو چیٹ سروس فراہم کرتی ہیں۔
چین میں تنہائی کے مارے مردوں کے لیےآن لائن ساتھی میسر
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
320 کلومیٹر فی گھنٹہ رفتار کے طوفان کا خطرہ، تین ممالک میں شدید تباہی کا خدشہ
-
کن کن شہروں میں بادل برسیں گے؟ محکمہ موسمیات نے بتا دیا
-
پاکستان کو 150 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار والا نیا بولر مل گیا
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کردی
-
حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی فی لیٹر قیمت میں مزید کمی کردی
-
پی آئی اے جہاز گلگت سے اسلام آباد آتے ہوئے ریڈار سے غائب، 37 سال سے لاپتا
-
نیپال میں ہلاکت خیز سیلاب کی وجہ زلزلہ نہیں بلکہ کچھ اور تھا: امریکی ادارے نے بتادیا
-
موبائل بیلنس کی میعاد 1 ماہ سے بڑھا کر 180 دن مقرر، پی ٹی اے نے صارفین کو بڑی سہولت دے دی
-
یو اے ای ملازمت کے خواہشمند پاکستانیوں کے لیے اہم خبر
-
صنف تبدیل کرنے والی انایا بنگر کو خواتین کی کرکٹ کھیلنے کی اجازت مل گئی
-
بل گیٹس کی مستقبل کے بارے میں تشویشناک پیشگوئی
-
ملازمین کی تنخواہوں اور الاؤنسز میں بڑے اضافے کی منظوری
-
کل بروز ہفتہ29اگست مقامی تعطیل کا اعلان
-
پانچ ہزار روپے کے ایک نوٹ کی تیاری پر کتنے روپے خرچ ہوتے ہیں؟



















































