ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

چین میں تنہائی کے مارے مردوں کے لیےآن لائن ساتھی میسر

datetime 14  اپریل‬‮  2015 |

بیجنگ،(نیوزڈیسک) آج کل عوامی جمہوریہء چین میں انٹرنیٹ پر آن لائن ہوسٹسنگ کا رجحان بڑھتا جا رہا ہے، جس میں مردوں کو چند لمحات کے لیے ایک آن لائن ساتھی میسر آ جاتا ہے اور عورتیں اچھی بھلی کمائی کر لیتی ہیں۔
بیجنگ سے نیوز ایجنسی روئٹرز کے ایک جائزے میں ایسی ہی ایک آن لائن ہوسٹس سیاؤ یُو کا حوالہ دیا گیا ہے۔ روئٹرز کے مطابق یہ اکیس سالہ طالبہ زیادہ تر دنوں میں چار گھنٹے تک انٹرنیٹ پر اپنے پرستاروں کے ساتھ چیٹ کرتی ہے، جو جواب میں اُس پر ورچوئل پھول اور دیگر تحفے نچھاور کرتے ہیں۔
سیاؤ یُو چین کی انٹرنیٹ وَیب سائٹ بوبو ڈاٹ کام سے وابستہ دَس ہزار ہوسٹسز میں سے ایک ہے۔ یہ ہوسٹسز اس لائیو براڈکاسٹنگ وَیب پلیٹ فارم پر گیت گاتی ہیں، پیانو بجاتی ہیں، رقص کرتی ہیں یا صرف چیٹ کرتی ہیں اور اِن ہوسٹسز کے مداح ان کے رقص و موسیقی اور چیٹ کو ریکارڈ بھی کر سکتے ہیں۔
زیادہ تر ہوسٹسز گلوکارائیں ہوتی ہیں اور جن ناظرین کے لیے وہ گاتی ہیں، اُن کی نوّے فیصد تعداد مردوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان مردوں میں سے زیادہ تر کی عمریں بیس اور پینتیس سال کے درمیان ہوتی ہیں۔ چیٹ وغیرہ کے دوران یہ ہوسٹسز دل کو لبھانے والی تمام حرکتیں کر سکتی ہیں لیکن ان کے لیے واضح طور پر کوئی جنسی عمل کرنا یا دکھانا ممنوع ہوتا ہے۔
سیاؤ کی نمایاں خوبی ساجیاؤ ہے، یعنی مردوں کا دل لبھانے کے لیے چینی خواتین کا وہ خاص انداز، جس میں وہ بچوں کی طرح کی حرکتیں کرتی ہیں اور بولتی بھی پتلی سی آواز میں ہیں۔ سیاؤ اپنے پرستاروں سے باتیں کرتے ہوئے درمیان درمیان میں کبھی رقص کرنا شروع کر دیتی ہے یا پھر ہیجان انگیز انداز میں اسٹرابریز کھانا شروع کر دیتی ہے۔ جواب میں اُس کے مداح اُس پر ورچوئل تحقوں کی بارش کرتے رہتے ہیں، جن کی مالیت کبھی کبھی ہزاروں یوآن ہوا کرتی ہے۔ سیاؤ مہینے میں دَس ہزار یوآن سے زیادہ (سولہ سو ڈالر) تک کما لیتی ہے۔
سیاؤ کے مطابق جس شخص نے کبھی یہ سروس استعمال نہ کی ہو، اُسے یہ سمجھانا مشکل ہو گا کہ ایسا کرنے میں کیا لطف آتا ہے:ہم ایک دوسرے کو جانتے نہیں ہوتے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ایک ناقابلِ بیان تعلق قائم ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہ مداح واقعی آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، جس سے آپ کی نظر میں اپنی اہمیت کا احساس بڑھتا چلا جاتا ہے۔
روئٹرز نے ایسے ہی ایک مداح کے ساتھ بھی گفتگو کی۔ ژُو پائی ہوا نے بتایا کہ اُس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ کسی گرل فرینڈ کا خرچ برداشت کر سکے:کام کے بعد گھر واپس آئیں تو ٹی وی یا فلمیں وغیرہ دیکھنے یا بستر میں پڑے رہنے کے سوا کوئی کام نہیں ہوتا۔ کوئی ساتھی نہیں ہوتا، جس سے انسان بات کر سکے۔ ایسے میں یہ (ہوسٹسز) حقیقی انسان ہوتی ہیں، جن کے ساتھ مکالمہ ہو سکتا ہے۔ کوئی ہوتا ہے میرے پاس، جس سے میں بات کر سکتا ہوں۔ چین میں ایسی کمپنیوں کی تعداد پچاس کے قریب ہے، جو ویڈیو چیٹ سروس فراہم کرتی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…