بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

احسن اقبال کے بھائی مصطفی کمال کاسکینڈل بھی منظر عام پر،چونکا دینے والے انکشافات

datetime 22  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف نے شریف خاندان کی آؤبھگت پر وزیر داخلہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے تحریری سوالنامہ بھجوا دیا ، جس میں کہا گیا ہے کہ شریف خاندان کی آؤبھگت پر قومی وسائل کیسے لٹائے جاسکتے ہیں,کیسے ایک کرپٹ خاندان کے استقبال اور تحفظ کے نام پر 21.8 ملین کی خطیر رقم ضائع کی گئی ،نااہل وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے لندن یاترا کرنے والے وزیروں نے اخراجات قومی خزانے سے کیوں ادا کئے،

احسن اقبال بتائیں کرپشن کی گنگا میں انکے خاندان نے کیسے اشنان کیا، انکے بھائی مصطفیٰ کمال کو میٹرو اسلام آباد میں 448 ملین کا کنٹریکٹ کیسے دیا گیا،تفصیلا ت کے مطابق قومی خزانے سے شریف خاندان کی آؤبھگت پرتحریک انصاف نے وزیر داخلہ سے شدید احتجاج کرتے ہوئے تحریری سوالنامہ بھجوا دیا سوالنامہ پی ٹی آئی رہنما عندلیب عباس کی جانب سے بھجوایا گیاجس میں کہاگیا ہے کہ شریف خاندان کی آؤبھگت پر قومی وسائل کیسے لٹائے جاسکتے ہیں,کیسے ایک کرپٹ خاندان کے استقبال اور تحفظ کے نام پر 21.8 ملین کی خطیر رقم ضائع کی گئی نااہل وزیر اعظم سے ملاقات کیلئے لندن یاترا کرنے والے وزیروں نے اخراجات قومی خزانے سے کیوں ادا کئے، بطور وزیر ریاست پاکستان سے وفاداری کی بجائے شریفوں کی کورنش بجالانے کا کیا جواز ہے, یہ وزیر تنخواہیں تو قومی خزانے سے لیتے ہیں اور کاسہ لیسی شریفوں کی کرتے ہیں, احسن اقبال بتائیں کرپشن کی گنگا میں انکے خاندان نے کیسے اشنان کیا، انکے بھا ئی مصطفیٰ کمال کو میٹرو اسلام آباد میں 448 ملین کا کنٹریکٹ کیسے دیا گیا، مصطفیٰ کمال کوتو اختیارات سے تجاوز ثابت ہونے پر وزیر اعلیٰ پنجاب ٹاسک فورس کے چیئرمین کے منصب سے معزول کیا گیاتھا,اس کے باوجود آپ کے بھائی کی کمپنی کو کنٹریکٹ کیسے فراہم کیا گیا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…