منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا شام سات بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ ،تاجروں کے ہوش اُڑ گئے

datetime 20  اکتوبر‬‮  2017 |

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) کراچی تاجرالائنس ایسوسی ایشن کے چیئرمین ایاز میمن موتی والا نے کہاہے کہ شام 7بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ ملک تباہ کردے گا۔دنیا بھر میں چوبیس چوبیس گھنٹے کام ہوتا ہے حکمران چاہتے ہیں کہ پاکستان کو دیوالیہ کرنے کے لیے اس ملک کا بچا کچھا کاروباربھی ختم کردیا جائے ۔یہ ہی وجہ ہے کہ پاکستان ملک نہیں کرپٹ حکمرانوں کی فیکٹری بن چکاہے اور 20کروڑ عوام اس فیکٹری کے مزدور بن چکے ہیں۔

قوم دیکھ رہی ہے کہ پی آئی اے تباہ مگر وزیراعظم صاحب کی ائیر لائن بغیر کسی خسارے کے چل رہی ہے ۔اسٹیل مل تباہ مگر حکمرانوں کے کارخانے عروج پر ہیں ایسا لگتاہے کہ پاکستان کو خوشحال کرنے میں حکمرانوں کا نقصان ہے ۔ثابت ہوگیا ہے کہ کمیشن ایجنٹ حکمران پاکستان کو کبھی پھلنے پھولنے نہیں دینگے ۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈیفنس آفس کراچی میں تاجر الائنس کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہاکہ شام سات بجے دکانیں بند کرنے کا مطب پاکستان کی معیشت کو قبرستان پہچاناہے جو سراسر پاکستان کے دشمنوں کو فائدہ پہچانے کے لیے کیا جارہاہے ۔انہوں نے کہاکہ جب پاکستان کو خوشحال کرنے سے حکمرانوں کو نقصان پہنچتاہے تو وہ کیوں چاہیں گے کہ پاکستان معاشی اعتبار سے ترقی کے وہ کیوں چاہیں گے کہ پاکستا ن میں صحت اور تعلیم کا نظام پروان چڑھ سکے یہ ہی وجہ ہے ان لوگوں نے پاکستان کی تباہی و بربادی کا بیڑہ اٹھارکھاہے ، اس وقت حکمرانوں کا ایجنڈاہے کہ وہ عوام کو سڑکوں پر سسک سسک کرکے مرنے کے لیے چھوڑ دیں ،موجودہ کرپٹ سسٹم نے عوام کو بھکاری بنادیاہے ،انہوں نے کہاکہ ملک کی اس وقت یہ حالت ہے کہ پاکستان کے ادرارے تباہ اور معیشت آخری سانسیں لے رہی ہے ۔ ریلوئے تباہ مگران کے ٹرا نسپورٹ آباد ہیں۔ عوامی سڑکیں تباہ ان کے گھروں کے راستے میں دن رات ترقیاتی کام ہورہے ہیں عوامی علاقے گندگی کا ڈھیر اوران کے محلات کے آس پاس گندگی کا شائبہ بھی موجود نہیں ہے ہے ۔انہوں نے مزید کہاکہ عوام کو پاکستان کی بقاء اور سلامتی عزیز ہے تو وہ ان حکمرانوں کے کھوکھلے نعروں کے فریب میں نہ آئے اور آئندہ انتخابات میں نیک اور ایماندار لوگوں کو اسمبلیوں میں پہنچائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…