منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رائیونڈ پر دل سوز واقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کا عوامی اُمنگوں کے مطابق اقدام

datetime 19  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور(خصوصی رپورٹ)شعبہ صحت خادم پنجاب شہباز شریف کی اولین ترجیحات میں شامل ہے یہی وجہ ہے معیاری اور مفت طبی سہولیات کی یقینی فراہمی کے باعث صوبہ پنجاب دیگر صوبوں پر سبقت رکھتا ہے ،ہیلتھ سیکٹر کو مزید بہتر کرنے کے لئے انقلابی اقدامات پر عمل جاری ہے صوبے بھر میں ہسپتالوں کی تعمیر وتوسیع جاری ہے،جدید ترین ٹیکنالوجی کو متعارف کرانے کے لئے تمام تر وسائل کو بروئے کار لائیں جا رہے

ہیں . وزیراعلیٰ پنجاب اپنے حصے کی ذمہ داریاں باخوبی سرانجام دے رہی ہے مگر کچھ ذمہ داریاں اُن مسیحائیوں پر بھی عائد ہوتی ہے جن کے پاس مریض شفا کی اُمید سے آتے ہیں۔مگر کبھی غلط مطالبات کی آڑ میں ہڑتالوں کے بہانے اِس مقدس پیشے پر ضرب لگنے کے واقعات سامنے آئے ،تو کبھی آپریشن تھیٹر میں دورانِ ڈلیوری ویڈیو اور عکس بندی جیسا واقعہ منظر عام پر آگیا اور گزشتہ دنوں تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال رائیونڈمیں ایم ایس کی نااہلی اور ڈاکٹر عاصمہ سرور کی عدم دستیابی کے باعث حاملہ خاتون کے سٹرک پر ہی بچی کو جنم دینے والے معاملے نے سوشل میڈیا پر ایک ہلچل مچا کر رکھی،جو ایک تکلیف دہ مناظر تھے ۔ہر ذمہ داری وزیراعلیٰ پر عائد کردینا انصاف کے تقاضے کے مطابق نہیں اِن مسیحاؤں کوبھی اپنے پیشے کے تقدس کا خیال رکھنا چاہے حکومت کے فراہم کی گئیں طبی سہولیات بروقت عوام تک نہ پہنچانا ڈاکٹروں کی سراسر غفلت ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جاسکتا ہے ایسی صورت میں حکومت پنجاب نے سخت ایکشن لیا ہے،ہر پہلو سے قابل تعریف ہے ، وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف کے ہدایت پر فوری تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق ایکشن لیتے ہوئے ۔ ایم ایس ہسپتال ڈاکٹر عامر مفتی ، کنسلٹنٹ گائنا کالوجسٹ ڈاکٹر عاصمہ سرور کو بھی عہدے سے ہٹا نے اور لیڈی ہیلتھ ویزیٹر سمیرا رمضان کو ملازمت سے برطرف کئے جانے سے فوری

فیصلے کو عوامی حلقے میں سراہا جا رہا ہے مگر افسوس کچھ ناقدین سیاسی مفادات کے حصول کے لئے تاحال طوفانِ بدتمیزی برپا کئے ہوئے ہیں قابل افسوس بات یہ ہے کہ اُنکی تنقید کا نشانہ حکومت پنجاب ہے،۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…