منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

شریف خاندان کی دولت کو جوا خانوں میں کیسے قانونی شکل دی جاتی رہی،تمام کچا چٹھا سامنے آگیا

datetime 19  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سیاستدان ، بیوروکریٹ اور بزنس ٹائیکون بلیک منی وائٹ کیسے کرتےتھے اور 1کروڑ سے 99کروڑ کیسے بناتے ہیں، نجی ٹی وی پروگرام میں معروف صحافی اسد کھرل کے ہوشربا انکشافات۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اسد کھرل نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہمارے سیاستدان،

بیوروکریٹ اور بڑے بڑے بزنس ٹائیکون نے اربوں روپے کا ایک لوپول بنایا ہوا تھا وہ سبوتاژ ہو گیا ہے۔ یہ لوگ بیرون ملک کیسینو (جوا خانہ)میں ایک ارب روپے لے جاکر جمع کرواتے تھے جبکہ اس میں سے ایک کروڑ روپے کا جوا کھیلتے تھے اور 99کروڑ روپیہ وننگ منی(جیتی ہوئی رقم)کے نام سے ان کے اکائونٹ میں ٹرانسفر کر دیا جاتا تھا اور اس کے اوپر ٹیکس نہیں ہوتا تھا اور کوئی ملک ان سے اس رقم کے بارے میں نہیں پوچھتا تھا، انہوں نے یہ ایک واردات بنائی ہوئی تھی، اب کیسینو(جوا خانہ)کے اوپر ایک نیا قانون آگیا ہے، اب اگر کوئی کیسینو (جوا خانہ)میں رقم لے کر جاتا ہے تو اس سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ رقم آپ نے کہاں سے کمائی، جس کا پورا پروف دینا پڑتا ہے اب، لہٰذا اب یہ کہا جا سکتا ہے کہ شریف خاندان کے خلاف لندن میں بھی شکنجہ کسا جا رہا ہے کیونکہ ان کی پراپرٹی لندن کے اندر بہت زیادہ ہیں، یہاں صرف پارک لین فلیٹ کے حوالے سے بات کی جا رہی ہے مگروہاں اربوں روپے کی پراپرٹی ہیں شریف خاندان کی۔ اس قانون کے تحت وہ شاید پاکستان میں تو شاید بچ جائیں مگر وہاں سے ان کے بچنے کی کوئی امید نہیں۔ اسد کھرل نے اس حوالے سے کیا کہا۔۔ویڈیو ملاحظہ کریں!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…