جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

’’آسان قرضے‘‘لیکر بڑی تعداد میں شہری لٹ گئے ،گھر اور سامان بیچنے پر مجبور

datetime 18  اکتوبر‬‮  2017 |

پاکپتن(مانیٹرنگ ڈیسک)پاکپتن میں آسان قرضوں کے نام پر مختلف مائیکرو فنانس برانچیں شہریوں کو سود کے عذاب میں ڈال کر انکے گھر بار بیچنے میں مصروف دس ہزار قرض سے دو ہزار روپے سود کی رقم بٹورنے لگے ارباب اختیار سے مکروہ کاروبار کے خلاف کریک ڈاؤن کا مطالبہ تفصیلات کے مطابق پاکپتن میں لاتعداد مائیکرو فنانس بنک شہر اور دیہات میں آسان قرضوں کے نام پر سادہ لوح افراد کی غربت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے

انہیں تیس ہزار سے پچاس ہزار روپے تک کے قرضے دے کر ان سے بدلے میں ہزاروں روپے سود بٹورتے ہیں جبکہ سود خور مائیکرو فنانس اسلامی نظام اور اسلامی قوانین کی بھی کھلی خلاف ورزی کر تے ہوئے بڑی تعداد میں عوام کو سود کے عذاب میں دھکیل کر انہیں مقروض کرنے میں مصروف ہیں جبکہ بروقت قسط نہ جمع کرانے پر مائیکرو فنانس کے کارندے انکے گھروں کے سامان تک اٹھا کے لے جاتے ہیں اور انکی تذلیل کی جاتی ہے شہری و سماجی حلقوں نے ارباب اختیار سے سود کے اس گھناؤنے کاروبار کی روک تھام اور انکے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…