پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

بس بہت ہوگیا! پاک فوج کا امریکہ کو براہ راست دوٹوک جواب،اہم ترین اعلان کردیاگیا

datetime 14  اکتوبر‬‮  2017 |

راولپنڈی(مانیٹرنگ ڈیسک)پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ اپنے ملک میں بہت کچھ کرلیا، اب ہمارے پاس ڈومور کی گنجائش نہیں ٗامریکا سے انٹیلی جنس معلومات ملیں تو کینیڈین خاندان کی بازیابی کیلئے آپریشن کیا ٗکوئی ڈیل نہیں ہوئی ٗ اعتماد کی بنیاد پر تعلقات چلیں گے تو آگے اور بھی بہتر کام ہوں گے ٗ پاکستانی سرزمین پر پاکستانی فورسز کے ساتھ کسی

بھی دوسری فورس کے جوائنٹ آپریشن کا کوئی تصور نہیں ہفتہ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ پاکستان نے گزشتہ 8 سال میں اپنی سیکیورٹی کیلئے خاطر خواہ اور موثر اقدامات اٹھائے جس کے باعث پاکستان میں اب کوئی نوگو ایریا نہیں ٗ 15سال میں پاکستان نے اپنی سیکیورٹی کے حوالے سے بہت سے نتائج حاصل کیے۔انہوں نے کہا کہ چند روز قبل ہم نے کرم ایجنسی میں ایک آپریشن کیا جس کیلئے امریکا سے ہمیں انٹیلی جنس معلومات ملی تھیں، آپریشن میں بازیاب کرائے گئے کینیڈین خاندان کو اکتوبر 2012 میں افغانستان سے اغوا کیا گیا، امریکی سفیر نے عسکری حکام کو مغویوں سے متعلق اطلاع دی، آپریشن کے دوران اغوا کاروں کی گاڑیوں کے ٹائروں پر فائر کرکے انہیں روکا گیا ٗسیکیورٹی اہلکاروں نے دہشت گردوں کے گاڑیوں سے نکلنے کا انتظار کیا اور سیکورٹی فورسز نے غیر ملکی مغویوں کو بحفاظت بازیاب کرایا۔میجر جنرل آصف غفور نے کہاکہ جس جگہ آپریشن کیا گیا اس کے قریب افغان مہاجرین کا کیمپ بھی تھا، افغان مہاجرین کا اپنے ملک واپس جانا ضروری ہے ٗہم نے بہت کچھ کر لیا، آگے بھی ہمیں جو کچھ کرنا ہے اپنے ملک کیلئے کرنا ہے لیکن اب ڈومور کی گنجائش نہیں۔میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ ’ہم نے یرغمالیوں کو بحفاظت نکالا اور ہم اس کارروائی کو ایک اچھے آغاز کے طور پر دیکھ رہے ہیں، افغان جنگ میں پاکستان کا تعاون نہ ہوتا تو وہ کامیاب نہ ہوتی

جبکہ باہمی اتحاد اور تعاون سے ہی دہشت گردوں کے خلاف کامیابی ممکن ہے۔ ترجما ن ڈی جی آئی ایس پی آرنے کہاکہ پاک فوج نے کامیاب کارروائی کرتے ہوئے مغویوں کو بحفاظت نکالا جس کے بعد ان کے والدین ٗامریکی حکومت اور ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات بھی آئے۔انہوں نے کہاکہ اس معاملے پر امریکی قیادت نے جس طرح پاکستان اور پاک فوج پر اعتماد کا اظہار کیا ہے اس پر ہم بے حد خوش ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…