جمعہ‬‮ ، 24 جولائی‬‮ 2026 

نواز شریف اپنے سب سے پرانے اور قریبی ساتھی راجہ ظفر الحق پر برس پڑے، کیا کچھ کہہ دیا!!

datetime 12  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن کے صدر نوازشریف نے راجا ظفر الحق سے رابطہ کرکے تحقیقاتی رپورٹ 24 گھنٹےمیں نہ بھیجنے پرشدید برہم اور سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔نجی ٹی وی چینل ’’آج‘‘ کی رپورٹ کے مطابق ختم نبوت قانون میں متنازع ترمیم کی تحقیقات کے معاملے پر مسلم لیگ (ن )کے صدر نوازشریف نے راجا ظفر الحق سے رابطہ کیا اور ختم نبوت قانون میں متنازع ترمیم کی تحقیقات کے معاملے پر

تحقیقاتی رپورٹ 24 گھنٹے میں نہ بھیجنے پر ناراضگی کا اظہار کیا۔اس موقع پر نواز شریف نے استفسار کیا کہ کمیٹی کا ابھی تک کام مکمل کیوں نہیں ہوا،جس پر ختم نبوت میں متنازع ترمیم کے معالے پر بنائی جانے والی کمیٹی کے چیئرمین راجہ ظفر الحق نے کہا کہ کمیٹی کی رپورٹ اراکین کی عدم دستیابی پر تاخیر ہوئی،کمیٹی کی رپورٹ آئندہ ایک سے دو روز میں پیش کر دی جائے گی۔یاد رہے کہ تحقیقاتی کمیٹی تین اراکین پر مشتمل ہے جن میں راجہ ظفر الحق ، مشاہد اللہ خان اور احسن اقبال شامل ہیں،نواز شریف نے معاملہ کی تحقیقات کیلئے کمیٹی کو 24 گھنٹےکی ڈیڈ لائن دی تھی۔دوسری جانب وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ نے کہا ہے کہ آرمی چیف نے درست کہا کہ جہاد صرف ریاست کا حق ہے ،موقر قومی اخبار ’’خبریں‘‘ گروپ کے روزنامے ’’نیا اخبار‘‘ میں شائع شدہ رپورٹ کے مطابق وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کا کہنا تھا کہ کیپٹن (ر) صفدر کی اسمبلی میں ایسی تقریر نہیں ہونی چاہیے تھی ،احمدی خود کو اقلیت ماننے کو تیار نہیں ،ختم نبوت ﷺ کے معاملے پر ان کا ہم سے معمولی اختلاف ہے اور قادیانی بھی مسلمان ہیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ ہمیں اس موضوع پر بات نہیں کرنی چاہیے ،یہ حساس موضوع ہے اور اسے بار بارمیڈیا پر زیر بحث نہیں لانا چاہیے ،نوازشریف ووٹ اور اداروں کے تقدس کی بات کرتے ہیں ان کی ٹکراؤ کی سوچ نہیں ہے ،وہ اپنے مقدمات کا

سامنا کریں گے ،عدالت کے اندر اور باہر اپنا موقف رکھیں گے ۔وہ بدھ کو نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کررہے تھے ۔ رانا ثنا ء اللہ نے کہا کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا یہ کہنا 100فیصد درست ہے کہ جہاد ریاست کا حق ہے ان کی بات سے مکمل اتفاق کرتا ہوں ،جہاد کا حکم صرف ریاست دے سکتی ہے کیپٹن (ر) صفدر کی قومی اسمبلی میں قادیانیوں کے حوالے سے تقریر کے تناظر میں صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ

کیپٹن (ر) صفدر کی اسمبلی میں ایسی تقریر نہیں ہونی چاہیے تھی لیکن تقریر کے بعد گھٹیا پوائنٹ سکورننگ ہر گز نہیں کرنی چاہیے ، رانا ثنا ء اللہ خان نے کہا کہ احمدی خود کو اقلیت ماننے کو تیار نہیں ہیں ہمیں اس موضوع پر بات نہیں کرنی چاہیے ،یہ معاملہ میڈیا پر بار بار زیر بحث نہیں لانا چاہیے اس بحث کے منفی نتائج نکل سکتے ہیں انہوں نے کہا کہ میرا ایمان اور عقیدہ (ن) لیگ کے ماتحت نہیں ہے ۔رانا ثناء اللہ نے کہا کہ

نوازشریف ووٹ اور اداروں کے تقدس کی بات کرتے ہیں ان کی ٹکراؤ کی سوچ نہیں ہے ،وہ اپنے تمام مقدمات کا سامناعدالتوں میں کریں گے صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ نوازشریف عدالت کے اندر اور باہر اپنا موقف رکھیں گے ،عوام کی عدالت بھی لگنی ہے اور عوام کو بھی سب کچھ بتانا پڑے گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



Cognitive Manipulation


کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…