منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

قادیانیوں کیخلاف کیپٹن(ر)صفدر کی تقریر پر عاصمہ جہانگیر مشتعل،سنگین الزام عائد کردیا

datetime 11  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کی سابق صدر ٗ ماہر قانون عاصمہ جہانگیر نے کیپٹن (ر) محمد صفدر کی قومی اسمبلی میں کی گئی حالیہ تقریر کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے اس پر ان کے سسر اور سابق وزیراعظم نواز شریف سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا۔ایک انٹروی ومیں کیپٹن (ر) صفدر کی تقریر انتہائی تعصبانہ تھی اور ایسا جارحانہ رویہ شاید ہی قومی اسمبلی میں اس سے قبل دیکھنے میں آیا ہو۔

انھوں نے کہا کہ وہ لوگ جنہیں ہم شدت پسند سمجھتے ہیں ان کے منہ سے تو ہم ایسے الفاظ سنتے ہیں، مگر ایک رکن قومی اسمبلی ہوکر ایسی تقریر کرنا بہت ہی حیرت انگیز بات ہے۔انہوں نے کہاکہ میں سمجھتی ہوں کہ کیپٹن (ر) صفدر نے آگ لگانے اور اکسانے کی کوشش کی لہذا ایوان کے اندر بات کرتے ہوئے تھوڑاسا لحاظ رکھنا چاہیے۔عاصمہ جہانگیر نے تمام سیاسی جماعتوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اس کی سخت الفاظ میں مذمت کرنی چاہیے اور ساتھ ہی تشویش کا اظہار کیا کہ اس قسم کے واقعات پر اب سول سوسائٹی بھی مذمت نہیں کرتی۔ان کاکہنا تھا کہ دنیا میں کہیں بھی کوئی بھی اپنی اقلیتوں سے متعلق اس قسم کی بات کر ہی نہیں سکتا اور اگر ہم نے آج اس کے خلاف آواز نہ اٹھائی تو ایسے لوگ اسمبلیوں سے باہر اکثریت میں سامنے آنا شروع ہوجائیں گے۔دریں اثنا سابق وزیراعظم نوازشریف کے داماد اور رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں’’ ممتاز قادری زندہ باد‘‘ اور’’ قادیانیوں کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ‘‘کے نعرے لگوا د یئے ۔ تفصیلات کے مطابق رکن قومی اسمبلی کیپٹن (ر) محمد صفدر نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پیپلزپارٹی کے سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو توہین رسالت کے معاملے پر مارنے والے ممتاز قادری کے حق میں نعرے لگوا د یئے ، کیپٹن (ر) محمد صفدر نے کارکنوں کے ہمراہ قادیانیوں کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے کے نعرے لگوائے ۔

کیپٹن (ر) محمد صفدر کی جانب سے غازی علم دین شہید ، غازی عبدالقیوم اور عمر چیمہ شہید کے لئے زندہ باد کے نعرے بھی لگوائے ۔اس حوالے سے ان کی ویڈیو بھی منظر عام پر آگئی ہے جو کہ سوشل میڈیا پر بھی انتہائی وائرل ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…