منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

جہانگیر ترین کو 18 ہزار 500 ایکڑ زمین کس نے دی؟اس زمین کا جہانگیر ترین نے کیا، کیا؟پنجاب حکومت کیا کررہی تھی؟پی آئی اے کا جہاز کس نے بیچا اور وہ اب کہاں ہے؟جاوید چودھری کے حیرت انگیزانکشافات‎

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

آج پنجاب حکومت نے ایک بہت اچھا ”اینی شیٹو“ لیا‘ لاہور میں پہلی موٹر سائیکل ایمبولینس سروس کا آغاز کر دیا گیا‘ یہ موٹر سائیکل ان تنگ گلیوں میں بھی پہنچ جائیں گے جہاں ایمبولینس نہیں پہنچ سکتی‘ یہ زخمی یا مریض کو طبی امداد دیں گے اور پھر اسے فولڈنگ سٹریچر پر ڈال کر بڑی ایمبولینس تک پہنچا دیا جائے گا‘ پنجاب حکومت بہت جلد اس پراجیکٹ کو 9 ڈویڑنل ہیڈ کوارٹرز تک پھیلا دے گی‘ میں سمجھتا ہوں یہ سروس بہت اچھا آئیڈیا ہے اور یہ سروس پورے ملک میں ہونی چاہیے‘

اس سے لاکھوں لوگ فائدہ اٹھائیں گے اور ان لاکھوں لوگوں کی دعائیں میاں شہباز شریف تک پہنچیں گی۔ یہ سروس ثابت کرتی ہے حکومت (ان) گلیوں تک بھی پہنچنا چاہتی ہے جہاں گاڑی داخل نہیں ہو سکتی لیکن آپ دوسری طرف حکومت کا کمال دیکھئے‘ اکتوبر 2016ء میں پی آئی اے کا ایک A-310جہاز غائب ہو گیا اور حکومت کو دو ماہ تک جہاز کی غیر موجودگی کا علم نہ ہو سکا‘ یہ ایشو پہلی مرتبہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے 14دسمبر2016ءکو اٹھایا‘ حکومت نے تحقیقات کیں تو پتہ چلا پی آئی اے نے فلم کی شوٹنگ کیلئے جہاز کرائے پر دیا تھا‘ یہ جہاز مالٹا گیا اور پھر وہاں سے جرمنی لے جا کر بیچ دیا گیا‘ جہاز اس وقت بھی جرمنی میں کھڑا ہے‘ یہ پاکستان کو واپس ملے گا یا پھر یہ اب وہیں رہے گا‘ پوری حکومت کے پاس اس سوال کا کوئی جواب موجود نہیں‘ آپ ایک طرف بلندی دیکھئے ہم موٹر سائیکل ایمبولینس بنا رہے ہیں اور دوسری طرف پستی ملاحظہ کیجئے‘ ہمارے جہاز غائب ہو جاتے ہیں اور ہمیں دوماہ تک ان کا علم نہیں ہوتا‘ یہ ملک کب تک اس طرح چلتا رہے گا‘ ہم کب سیریس ہوں گے‘ یہ آج کا سب سے بڑا سوال ہے اور ہم اس سوال کا جواب وقت پر چھوڑتے ہیں۔ آج جہانگیر ترین کے وکیل نے سپریم کورٹ میں انکشاف کیا ترین صاحب نے 2010ءمیں 18 ہزار 500 ایکڑ زمین لیز پر لی تھی‘اس زمین پر گنا کاشت کیا اور یہ گناان کی شوگر مل میں استعمال ہوا‘ یہ لیز کس نے دی؟ کس نے لی اور اس دوران پنجاب حکومت کہاں تھی؟

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…