منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت کا ملک میں اووربلنگ اور بجلی چوری میں سرکاری ملازمین کے ملوث ہونے کا اعتراف

datetime 10  اکتوبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)وفاقی وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری نے ملک میں اووربلنگ اور بجلی چوری میں سرکاری ملازمین کے ملوث ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں سب سے بڑا مسلہ اوور بلنگ ہے، بجلی چوری کا سار بوجھ دیگر صارفین پر اوور بلنگ کی صورت میں پڑتا ہے،بجلی چوری اور اوور بلنگ کی روک تھا م کیلئے قانون سازی کر رہے

ہیں،اوور بلنگ کے خاتمے کیلئے پری پیڈ میٹر اور ایس ایم ایس کے ذریعے بل متعارف کرانے سمیت دیگر اقدامات اٹھائیں گے۔ بجلی کی سپلائی بڑھا کر حکومت نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا ایک وعدہ پورا کر دیا،آئندہ چند ماہ میں ضرورت سے زیادہ بجلی ملک میں دستیاب ہوگی۔وہ منگل کو قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کے ساجد نواز اور دیگر کے میٹر لگوانے اور بل ادا کرنے کے حوالے سے لوگوں کی حوصلہ شکنی کا موجب بننے والی بلا جواز متجاوز بلنگ سے متعلق توجہ دلائو نوٹس کا جواب دے رہے تھے ۔وفاقی وزیر توانائی اویس احمد خان لغاری نے کہا کہ یہ ایشوز ہیں حکومت نے اس میں بہتری لائی ہے ٹرانسمیشن لائنیں بہتر کیں بجلی کی پیداوار بڑھائی ہے لوڈشیڈنگ کم ہوئی ہے ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی تقسیم اور دیگر معاملات پر ابھی خامیاں ہیں، ہم نے اس بارے میں اقدامات اٹھائے ہیں، ایچ آر میں تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے، بجلی چوری کی وجہ سے میٹر والے ان کا بوجھ برداشت کرتے ہیں۔اووربلنگ ہے زائد بل بھیجنے کو بجلی چوری کی طرح جرم ثابت کرنے اور سزا کیلئے نیا قانون لا رہے ہیں۔ اووربلنگ اور بجلی چوری کی وجوہات ایک دوسرے سے جڑی ہیں، اس میں محکمہ بھی ملوث ہوتا ہے۔پاکستان کا سب سے بڑا

مسئلہ اوور بلنگ ہے۔ آئندہ سیشن میں تمام ایشوز ایوان میں رکھیں گے جہاں اس پر بحث کرائی جائے۔ یہ ہماری چھ ماہ کیلئے ترجیح ہوگی کہ صارفین کو غلط بل سے نجات دیں۔ اویس لغاری نے کہا کہ بڑے چیلنجز ہیں، ہم نے سپلائی کا وعدہ پورا کر دیا ہے اووربلنگ اور دیگر مسائل بھی حل کریں گے۔ اویس لغاری نے کہا کہ کے پی کے کے ممبران کا اجلاس بلالیں گے۔ بجلی چوری بھی

ہے، یہ تقسیم کار کمپنیوں میں بڑے مسائل میں سے ہے، ہمیں ٹرانسفارمرز اپ گریڈ کرنے فیڈر لائنیں بہتر بنانے کیلئے دس سے پندرہ ارب روپے درکار ہوں گے۔انہوں نے کہا کہ بجلی چوری بہت بڑا مسئلہ ہے، یہ مسئلہ ممبران کی مدد سے ڈسکوز نے حل کرنا ہے، یہ معاملہ ہائوس میں تفصیلی زیر بحث لائیں گے۔ پری پیڈ میٹر متعارف کرانے ایس ایم ایس کے ذریعے بل متعارف کرانے سمیت دیگر اقدامات اٹھائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…