واشنگٹن (این این آئی) گوگل نے امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کی تصدیق کر دی۔ امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق گوگل کے مختلف پلیٹ فارمز کو روسی ایجنٹوں نے پروپیگنڈہ اشتہارات اور جعلی خبروں کے لیے استعمال کیاجس کے لیے کروڑوں ڈالر خرچ کیے گئے۔گزشتہ دنوں کانگریس کی تحقیقاتی کمیٹی نے گوگل، ٹویٹر اور فیس بک کے نمائندوں کو انتخابات میں ممکنہ مداخلت پر پوچھ گچھ کے لیے بلایا تھا۔
تینوں بڑی کمپنیاں جعلی خبروں کی روک تھام کے لیے بھرپور اقدامات کر رہی ہیں۔دریں اثنا یورپی یونین کے مسابقتی کمیشن نے سرچ انجن گوگل کو 2 ارب 40 کروڑ یورو کا ریکارڈ جرمانہ عائد کردیا۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کے مسابقتی کمیشن کے سربراہ مارگیٹ ویسٹیگر نے بتایا کہ گوگل نے اینٹی ٹرسٹ رولز کی خلاف ورزی کی اور اپنی شاپنگ سروس دیکر غیر قانونی کام کیا اور اپنی مصنوعات کو برتر قرار دیا۔یورپی یونین کے مسابقتی کمیشن نے گوگل کو 2 ارب 40 کروڑ یورو جرمانہ عائد۔واضح رہے یورپین کمیشن کی جانبسے کسی بھی کمپنی پر عائد کیا جانے والا یہ تاریخ کا سب سے بھاری جرمانہ ہے۔دریں اثناانٹرنیٹ ٹیکنالوجی کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی کمپنی گوگل کی جانب سے ایک انجنیئر کو ملازمت سے فارغ کیے پر کمپنی کے سربراہ خلاف امریکا کے مختلف شہروں میں احتجاجی بینر لگ گئے۔خیال رہے کہ گوگل کے چیف ایگزیٹو آفیسر (سی ای او) سندر پچائی نے نوجوان انجنیئر جیمز ڈیمور کو کمپنی میں خواتین ملازموں کی تعداد بڑھانے پر تنقید کرنے پر ملازمت سے فارغ کیا تھا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق انجنیئر جیمز ڈیمور نے گوگل میں خواتین ملازموں کی تعداد بڑھانے پر کمپنی کی پالیسی کو تنقید کا
نشانہ بناتے ہوئے 300 الفاظ پر مشتمل اپنے مضمون میں کہا تھا کہ خواتین ٹیکنالوجی کے شعبے میں اتنی ماہر نہیں ہوتیں، اس لیے ان کی تعداد نہ بڑھائی جائے۔ملازم کی جانب سے جنسی تعصب پر مبنی تجویز سامنے آنے کے بعد گوگل کے سی ای او نے جیمز ڈیمور کو نوکری سے فارغ کردیا تھا، جس پر سب سے پہلے ملازم نے خود اور اس کے بعد اس کے ساتھیوں نے احتجاج شروع کیا، لیکن اب یہ احتجاج مختلف شہروں میں آویزاں کیے گئے
بینرز کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ملازمت سے فارغ کیے جانے کے بعد جیمیز ڈیمور نے گوگل کے ہیڈ آفیس کے باہر بینر اٹھاکر احتجاج کیا۔ملازم کی جانب سے احتجاج کیے جانے کے بعد لاس اینجلس سمیت امریکا کے مختلف شہروں میں گوگل کے بھارتی نڑاد سی ای او سندر پچائی کے خلاف احتجاجی بینر لگ گئے۔بینرز میں سندر پچائی اور ایپل کے سی ای او کا موازنہ کیا گیا، جب کہ کچھ بینرز صرف گوگل کمپنی کے خلاف لگائے گئے۔گوگل کے خلاف احتجاجی بینر لگائے جانے کے ساتھ کچھ مقامات پر گوگل کے دفاتر کی جانب جانے والے راستوں کو بند کرکے سڑک کنارے بینر آویزاں کیے گئے۔لاس اینجلس کی ایک خاتون نے وینیس علاقے کی تصاویر ٹوئیٹ کیں، جن میں بتایا گیا کہ گوگل کے دفتر جانے والے راستے کو بند کردیا گیا۔



















































