منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

انتخابی اصلاحات بل جیسے حکومتی اقدام سے اب ملک میں جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے‘ افتخار محمد چوہدری

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) پاکستان جسٹس اینڈ ڈیمو کریٹک پارٹی کے مرکزی صدر و سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چو ہدری نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات بل جیسے حکومتی اقدام سے اب ملک میں جرائم پیشہ افراد کو کھلی چھوٹ مل گئی ہے۔ انہوں نے ایک انٹرویو کے دوران اس حکومتی اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ملک کی جیلوں میں ایسے قیدی موجود

ہیں جو سنگین جرائم میں ملوث رہے مگر اس بل سے ان کے لیے کسی بھی جماعت کی رکنیت حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔یہ اس ملک کے لیے انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ کرپٹ لوگ اب پارٹی کے چیئرمین بن سکیں گے اور وہ بھی صرف ترمیم کے ذریعے جس کو ایک شخص کی خاطر منظور کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے یہ اقدام صرف نواز شریف کی سیاست کو بچانے کے لیے اٹھایا، مگر یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ نواز شریف کو ملک کی سب سے بڑی عدالت ایک نہیں، بلکہ دو مرتبہ نااہل قرار دے چکی ہے اور وہ اب کسی طرح اہل ہونے کا اخلاقی جواز نہیں رکھتے۔اس سوال پر کہ اب جبکہ اس بل کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے تو کیا عدالت اسے کالعدم قرار دے سکتی ہے؟ ۔ افتخار چوہدری کا کہنا تھا کہ اگر ماضی پر نظر ڈالی جائے تو ایک شخص کو بچانے کے لیے کیے جانے والے اقدامات کے مقدمات میں عدالت کو کافی وسیع اختیارات حاصل رہے ہیں اور جیسا کہ عدالت پاناما کیس کے فیصلے میں بالکل واضح طور پر نواز شریف کو نااہل قرار دے چکی ہے تو اس کے بعد انہیں ایک منٹ کے لیے بھی پارٹی کا چیئرمین نہیں ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات کے بل کی شق نمبر 203 میں آئین کے

آرٹیکل 9، 14 اور آرٹیکل 17 کے تحت جو بنیادی حقوق ہیں ان کی خلاف ورزی کی گئی لہٰذا اس تناظر میں سپریم کورٹ اپنا حکم جاری کرنے کا حق رکھتی ہے۔واضح رہے کہ حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن) کو نواز شریف کو دوبارہ پارٹی کا صدر منتخب کرنے کے سلسلے میں ایک رکاوٹ کا سامنا تھا، جس کے لیے انتخابی اصلاحاتی بل 2017 قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا، جس کے تحت نااہل شخص بھی پارٹی کا صدر منتخب ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…