جمعہ‬‮ ، 06 فروری‬‮ 2026 

دیپیکاپڈوکون ڈپریشن کے مرض سے اب تک باہر نہ نکل سکیں

datetime 9  اکتوبر‬‮  2017 |

ممبئی(این این آئی) بالی ووڈ اداکارہ دپیکا پڈوکون کا کہنا ہے کہ انہیں لگتا ہے وہ آج بھی ڈپریشن کے مرض میں مبتلا ہیں اوراب تک اس بیماری سے پیچھا چھڑانے میں ناکام رہی ہیں۔بہترین اداکاری اورخوبصورتی کے باعث بالی ووڈ کے ساتھ ہالی ووڈ پر بھی اپنا سکہ جمانے والی ناموراداکارہ دپیکا پڈوکون ماضی میں ڈپریشن کے مرض کا شکاررہ چکی ہیں، اس دور کو وہ اپنی

زندگی کا خوفناک ترین دور قراردیتی ہیں، ایک انٹرویو کے دوران ان کا کہنا تھا کہ ڈپریشن کی وجہ سے وہ اکثر بیٹھے بیٹھے رونے لگتی تھیں اور کام پر بھی توجہ نہیں دے پارہی تھیں لہٰذاجب صورتحال بہت زیادہ خراب ہوگئی تو انہوں نے ڈاکٹر سے مشورہ لینے کا فیصلہ کیااوراپنی بیماری پرقابوپانے کے لیے علاج کرایا۔ تاہم دوسال بعد ایک بار پھر دپیکا نے انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ علاج کے باوجود وہ آج تک اپنی دماغی بیماری سے باہرنہیں نکل سکیں۔بھارتی میڈیا کے مطابق اداکارہ نے اپنی دماغی بیماری کیبارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ اپنی بیماری سے آج تک باہر نہیں نکلی ہیں ، انہیں ہروقت اس بات کا خدشہ رہتا ہے کہ ڈپریشن کی بیماری ایک بار پھر ان پر حاوی ہوجائے گی۔دپیکا کا کہنا تھا کہ فلم انڈسٹری میں ایسے لوگ موجود ہیں جومجھے صرف اس وجہ سے کام کی پیشکش نہیں کرتے کہ میں ڈپریشن کی مریضہ ہوں اور کام نہیں کرسکتی، لیکن میں یہ بات یقین سے نہیں کہہ سکتی، ہوسکتا ہے یہ بات صحیح نہ ہو،تاہم میں پھر بھی بہت خوش ہوں کیونکہ بہت سے لوگوں کی جانب سے کام کی پیشکش نہ ہونے کے باوجود میرے پاس اتنا کام ہے کہ میں اپنی مرضی اور خواہش کے مطابق کام کا

انتخاب کرتی ہوں۔بالی ووڈ اداکارہ نے کہا کہ بھارتی عوام ذہنی بیماری سے آگہی کے متعلق بہت کم جانتے ہیں اور ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم اس بارے میں بات بھی نہیں کرتے ، دپیکا نے کہا کہ بنیادی تعلیمی ادارے یعنی اسکولوں میں ہی طالب علموں کو ذہنی بیماری سے متعلق آگاہ کرنا چاہئے۔اس

کے علاوہ وہ تمام افراد جو کام کے دوران کسی بھی قسم کا ڈپریشن محسوس کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ وہ اس بارے میں بغیر کسی ڈر اور خوف کے کھلے عام بات کریں۔ دپیکا نے ایک ادارہ بھی قائم کیا ہے جہاں ڈپریشن میں مبتلا افراد کا علاج کیا جاتا ہے۔

موضوعات:



کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…