منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

دو نئی موٹر ویز کی تکمیل، حکومت نے زبردست اعلان کردیا

datetime 5  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور( این این آئی)وفاقی وزیر مواصلات حافظ عبد الکریم نے کہا ہے کہ ملک میں موٹر ویز کے 13منصوبوں میں سے تین مکمل ہو چکے ہیں جبکہ 9 تعمیر کے مختلف مراحل میں ہیں،لاہور ملتان موٹر وے کو آئندہ سال اپریل میں عوام کیلئے کھول دیا جائے گا ، لاہور سیالکوٹ موٹر وے منصوبے پر بھی تیزی سے کام جاری ہے اور یہ منصوبہ بھی اگست 2018ء تک مکمل ہو جائے گا۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لاہور سیالکوٹ موٹر وے اور لاہورملتان موٹروے کے منصوبوں کے معیار اور رفتار کا جائزہ لینے کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔اس موقع پر وفاقی سیکرٹری مواصلات محمد صدیق میمن ، چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی شاہد اشرف تارڑ اور دیگر افراد بھی ان کے ہمراہ تھے ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت کے دور میں سڑکوں اور موٹر ویز کا جال بچھایا گیا ہے۔2013ء میں موٹر ویز کی کل لمبائی 580 کلومیٹر تھی جسے 4 گنا بڑھا کر 2400 کلومیٹر تک لے جائیں گے اور یہ پاکستان کی تاریخ میں ایک کارنامہ ہوگا۔ انہوں نے منصوبوں کے معیار اور رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ لاہور ملتان موٹر وے منصوبہ اگست 2018ء میں مکمل ہونا تھا تاہم اسے چار ماہ قبل ہی اپریل 2018ء کے پہلے ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا اور افتتاح کے بعد یہ شاہراہ عوام کے استعمال کے لئے کھول دی جائے گی ۔اس منصوبے کی تکمیل سے لاہور سے ملتان کا سفر پانچ سے کم ہو کے تین گھنٹے رہ جائے گا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ لاہور سیالکوٹ موٹر وے منصوبہ بھی اگست 2018ء تک مکمل ہو جائے گا جبکہ کالا شاہ کاکو سے ایسٹرن بائی پاس کو بھی موٹر وے کی تکمیل سے قبل مکمل کر لیا جائے گا تاکہ لوگ اس سے فائدہ اٹھا سکیں ۔ اس موقع پر نیشنل ہائی وے اتھارٹی کے چیئرمین نیشنل ہائی وے اتھارٹی شاہد اشرف تارڑ نے منصوبوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…