منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بس بہت ہوگیا،مولانا فضل الرحمان نے بھی نوازشریف کو سرپرائز دیدیا

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

مکہ المکرمہ(این این آئی)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ عقائد کے سامنے اتحاد اور حکومتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں، اسلامی دفعات کا تحفظ ہماری جدوجہد کا اہم حصہ ہے عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کی اساس ہے اس قانون میں کسی قسم کی ترامیم قابل قبول نہیں ،جمعیت علماء اسلام نے ہمیشہ اسلامی قوانین کے تحفظ کی جنگ لڑی ہے، اسلامی آئین بنانے والے ہمارے اکابرین تھے

اسلامی آئین کی حفاظت بھی ہم کریں گے، قانون ختم نبوت ؐپر کسی قسم کی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے جمعیت علماء اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے واضح اور دوٹوک انداز میں اعلان کیا کہ جمعیت علماء اسلام اسلامی قوانین کی حفاظت کی جنگ لڑتی رہے گی، یہ اتحاد اور حکومتیں ہمارے لئے کوئی معنی نہیں رکھتیں قانون تحفظ ختم نبوت ہمارے اکابرین نے قربانیاں دے کر بنایا تھا اور اگر ضرورت پڑی تو جمعیت اسے قربانیاں دے کر بھی بچائے گی، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ جمعیت کی صرف مسئلہ پر نظر نہیں بلکہ مسئلہ کے حل پر بھی نظر ہے، وہ مکہ المکرمہ میں جمعیت علماء اسلام سعودیہ کے رہنماؤں مولانا حمد اللہ عثمانی، مولانا یوسف خان لغاری، پیر عبد المنان اور دیگر سے گفتگو کررہے تھے،قائد جمعیت نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام الیکشن اصلاحات بل میں ختم نبوت کے خانہ میں ترمیم کی خبروں پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے، وہ سعودیہ عربیہ سے مسلسل جماعت کے رہنماؤں سے رابطہ میں ہیں، اوروہ اس حوالے سے حکومت سے بھی رابطہ میں ہیں اور وطن واپسی پر فوری وزیراعظم سے ملاقات کرکے اس مسئلے پر وضاحت طلب کریں گے، انہوں نے کہاکہ جمعیت علماء اسلام قانون ختم نبوت میں گئی کسی بھی قسم کی ترمیم کو قطعا تسلیم نہیں کرے گی اور ایسی کسی بھی صورت میں ختم نبوت کے حلف نامہ کو اس کے انہی الفاظ پر دوبارہ بحال کرائے گی، ختم نبوت کے حلف نامہ کے خانہ میں ایسی کسی گنجائش کی اجازت نہیں دی جائے گی

جو بلاواسطہ یا بالواسطہ یا کسی بھی طریقہ سے قادیانیوں کو الیکشن میں حصہ لینے پر کوئی ریلیف فراہم کرے، جمعیت کا واضح مؤقف ہے کہ آئین پاکستان کی اسلامی شقوں کو چھیڑنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے،تمام کارکنان حوصلہ رکھیں جمعیت کی پارلیمانی کمیٹی اس بل کا جائزہ لے رہی ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…