ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

قانون ختم نبوت میں کسی بھی قسم کی ترمیم کو قطعاً تسلیم نہیں کرینگے ، مولانا فضل الرحمن

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

لاہور ( این این آئی) جمعیت علماء اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ قانون ختم نبوت میں کسی بھی قسم کی ترمیم کو قطعاً تسلیم نہیں کریں گے ، وزیر اعظم سے ملاقات کر کے معاملے پر بات کروں گا ، عقیدہ ختم نبوت اور آئین کی اسلامی دفعات کا تحفظ ہماری جدوجہد کا لازمی اور اہم حصہ ہے ،عقائد کے سامنے اتحاد اور حکومتیں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں۔ان خیالات

کا اظہار انہوں نے پارٹی رہنمائوں حاجی اکرم خان درانی ،مولانا محمد امجد خان ،مولانا عطاء الرحمن ،محمد اسلم غوری ،حاجی شمس الرحمن شمسی سے ٹیلیفونک گفتگو اور مکہ المکرمہ میں جمعیت علما اسلام سعودیہ کے رہنمائوں مولانا حمد اللہ عثمانی، مولانا یوسف خان لغاری، پیر عبد المنان اور دیگر سے گفتگو کرتے ہوئے کیا ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ جمعیت علما اسلام نے ہمیشہ اسلامی قوانین کے تحفظ کی جنگ لڑی ہے، اسلامی آئین بنانے والے ہمارے اکابرین تھے اسلامی آئین کی حفاظت بھی ہم کریں گے، قانون ختم نبوت ﷺ پر کسی قسم کی کوئی آنچ نہیں آنے دیں گے ،عقائد میں کوئی تر میم قبول نہیں ہو گی ،عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے مسلمان متحد اور متفق ہیں ۔انہوں نے کہاکہ حکومت کا کاغذات نامزدی گی کا حلف نامہ پہلے والی شکل میں بحال کر نے کے اعلان سے ملک میں پائے جانے والااضطراب ختم ہوا ہے ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام الیکشن اصلاحات بل میں ختم نبوت کے خانہ میں ترمیم کی خبروں پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہے، جمعیت علما کے امیر سعودیہ عرب سے مسلسل جماعت کے رھنماں سے رابطہ میں ہیں، اس حوالے سے حکومت سے بھی رابطہ میں ہیں اور وطن واپسی پر فوری وزیراعظم سے

ملاقات کرکے اس مسئلے پر بات کریں گے ۔انہوں نے کہا کہ جمعیت علما اسلام قانون ختم نبوت میں گئی کسی بھی قسم کی ترمیم کو قطعا تسلیم نہیں کرے گی اور ایسی کسی بھی صورت میں ختم نبوت کے حلف نامہ کو اس کے انہی الفاظ پر دوبارہ بحال کرائے گی، ختم نبوت کے حلف نامہ کے خانہ میں ایسی کسی گنجائش کی اجازت نہیں دی جائے گی جو بلاواسطہ یا بالواسطہ یا کسی بھی طریقہ

سے قادیانیوں کو الیکشن میں حصہ لینے پر کوئی ریلیف فراہم کرے، جمعیت کا واضح موقف ہے کہ آئین پاکستان کی اسلامی شقوں کو چھیڑنے کی کسی کو اجازت نہیں ہے،تمام کارکنان حوصلہ رکھیں جمعیت کی پارلیمانی کمیٹی اس بل کا جائزہ لے رہی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے ورکنگ بانڈری پر بھارتی فائرنگ کے واقعات کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی خلاف

ورزی قرار دیا اور کہا ہے کہ عالمی فورمز ان واقعات کا نوٹس لے ۔ا نہوں نے کہا کہ بھارت ایک بار پھر باڈرز پر جنگی ماحول بنا رہا ہے لیکن عالمی ادارے خاموش تما شائی بنے ہو ئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پا کستان کی خاموشی کو بھارت کمزری نہ سمجھے پا کستان خطے میں امن چاہتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…