جمعرات‬‮ ، 24 ستمبر‬‮ 2026 

بھارتی معیشت کا دیوالیہ نکل گیا،بے روزگاری میں اضافہ

datetime 4  اکتوبر‬‮  2017 |

واشنگٹن (این این آئی)بھارتی معیشت سست روی کا شکار ہو گئی ہے جس کے باعث ہزاروں افراد ملازمتوں کے حصول میں ناکام ہو رہے ہیں۔امریکی ٹی وی کے مطابق بھارت میں قتصادی نمو کی شرح اپریل سے جون کے دوران کم ہو کر 5.7 فیصد پر آ گئی جو گزشتہ تین برس کے دوران سب سے کم شرح نمو ہے۔ اقتصادی ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ بھارتی معیشت کو اپنی

اونچی اقتصادی نمو کی شرح پر واپس پہنچنے کیلئے سخت جدوجہد کی ضرورت ہو گی۔ممبئی میں کرائسل نامی ریٹنگ ایجنسی کے چیف اکانومسٹ ڈی کے جوشی کا کہنا تھا کہ یہ بہت پریشانی کی بات ہے کیونکہ بھارتی معیشت میں ترقی کی شرح توقع سے کہیں زیادہ کم سطح پر آ گئی ہے۔ اقتصادی ترقی کی شرح گرنے سے بہت سے ناقدین وزیر اعظم نرندر مودی کی اقتصادی بدانتظامی کو مورد الزام ٹھہرانے لگے ہیں۔اقتصادی ماہرین خاص طور پر مودی حکومت کے دو اقدامات پر شدید تنقید کرنے لگے ہیں۔ ایک تو مودی سرکار کی طرف سے گزشتہ نومبر میں 500 اور 1000 روپے کے نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ ہے ۔ اْس وقت کہا گیا کہ اس کا مقصد ملک میں غیر قانونی رقوم کا خاتمہ کرنا تھا۔ لیکن اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں کاروبار سکڑ کر رہ گیا ہے اور مالی وسائل میں شدید قلت پیدا ہوئی ہے جس سے مالی وسائل پر انحصار کرنے والی معیشت کو دھچکا پہنچا ہے۔اس کے علاوہ اس سال جولائی میں بھارتی حکومت نے ٹیکسوں میں اصلاحات کا اعلان کیا جس میں جی ایس ٹی میں ردو بدل کیا گیا ۔ اس کا متعدد حلقوں کی جانب سے خیر مقدم بھی کیا گیا۔ تاہم معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پر عملدرآمد میں سنگین غلطیاں

ہوئی ہیں اور اس کے نتیجے میں ٹیکسوں کے کئی ریٹ سامنے آنے سے کاروباری حلقوں میں افراتفری پھیلی ہے۔ ماہرین کہتے ہیں نوٹوں کی منسوخی اور جی ایس ٹی اصلاحات کے اقدامات اوپر تلے آئے ہیں جن کے باعث اقتصادی نمو میں خطیر کمی واقع ہوئی ہے۔سرکاری حکام کا کہناتھا کہ معاشی سست روی محض ایک وقتی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں جلد بہتری کے آثار

دکھائی دینے لگیں گے۔ لیکن اقتصادی ماہرین خبردار کر رہے ہیں کہ یہ آسان نہیں ہو گا اور اس میں بہت زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…