ہفتہ‬‮ ، 06 جون‬‮ 2026 

اگرڈی جی آئی بی کو غلط الزامات پر تبدیل یا انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا گیا تو ۔۔۔! سابق سربراہ انٹیلی جنس بیورو نے سنگین انتباہ کردیا

datetime 30  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (آئی این پی) سابق ڈائریکٹر جنرل انٹیلی جنس بیورو ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا ہے کہ حساس ادارے ملک کیلئے کام کرتے ہیں کسی حکومت کیلئے نہیں،الزامات سے ناصرف پورے ادارے کا مورال متاثر ہوتا ہے بلکہ داخلی اور قومی سلامتی بھی متاثر ہوتی ہے،تمام اداروں اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ اپنے لوگوں کو تربیت دیں اور اندرونی احتساب کا معاملہ شروع کریں،جب تک آئی بی کو مکمل خود مختاری نہیں دی جائے گی

اس وقت تک وہ کارکردگی نہیں دے سکے گا آئی بی سربراہ کے خلاف ہونے والی مہم کو بدقسمتی کہوں گا،اگرڈی جی آئی بی کو غلط الزامات پر تبدیل کرنے یا انہیں استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے تو یہ نا صرف آئی بی کیلئے بلکہ ملک کیلئے برا دن ہو گا۔وہ جمعہ کو آئی بی چیف کے حوالے سے ہونے والی قیاس آرائیوں سے متعلق نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کر رہے تھے۔ شعیب سڈل نے کہا کہ آجکل آئی بی کے سربراہ کے خلاف ہونے وائی مہم کو میں بدقسمتی ہی کہوں گا، حساس ادارے ملک کیلئے کام کرتے ہیں کسی حکومت کیلئے نہیں کرتے، ان پر الزامات سے پورے ادارے کا مورال متاثر ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی اور داخلی سلامتی بھی متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ڈی جی انٹیلی جنس بیورو آفتاب سلطان اپنے وفد کے ہمراہ لندن میں موجود تھے، جہاں ان کی پہلے سے طے شدہ ملاقاتیں طے تھیں،انٹیلی جنس بیورو کے موجودہ اسسٹنٹ سب انسپکٹر ملک مختار احمد شہزاد نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں پٹیشن دائر کی کہ آئی بی کے سینئر افسران دہشت گردوں کے خلاف ایکشن نہیں لیتے اور معاملے کی جانچ پڑتال کیلئے آئی ایس آئی کے ذریعے تحقیقات کروائی جائیں، اس پر رائے دیتے ہوئے ڈاکٹر شعیب سڈل نے کہا کہ آئی بی میں ایک ماتحت اہلکار نے اس قسم کی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی، کوشش یہ کی جاتی ہے کہ معاملات ادارے کے اندر ہی حل ہونے چاہئیں، اس ادارے میں ملک کے اہم ترین معاملات دیکھے جاتے ہیں۔

شعیب سڈل نے کہا کہ میرے دور میں بھی اس طرح کا معاملہ پیش آ چکا ہے، تمام اداروں کو اور سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ اپنے لوگوں کو تربیت دیں اور اندرونی احتساب کا معاملہ شروع کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان ایک مضبوط اور اخلاقی روایات کا حامل انسان اور افسر ہے،ماضی میں سیاسی بھرتیاں ہوئی ہیں اور ایسے بھرتی ہونے والے لوگ اداروں میں نا مناسب رویہ رکھتے ہیں، جی ڈی پی کا ایک مخصوص حصہ ادارے کیلئے مختص کیا جائے تا کہ بجٹ میں کمی بیشی کی جائے،

جب تک مکمل خود مختاری نہیں دی جائے گی آپ کارکردگی نہیں دے سکتے اور عوام کی نظروں میں مقبولیت کھو بیٹھتے ہیں، ان تمام چیزوں کا توازن برقرار رکھنا بہت ضروری ہے، اب آئی بی کیلئے غیر جانبدار قانون بنانے کی بھی ضرورت ہے۔ شعیب سڈل نے کہا کہ ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان کو استعفیٰ نہیں دینا چاہیے، اگر ڈی جی آئی بی کو غلط الزامات پر تبدیل کرنے یا استعفیٰ دینے پر مجبور کیا جاتا ہے تو یہ نہ صرف آئی بی کیلئے بلکہ ملک کیلئے برا دن ہو گا

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…