جمعہ‬‮ ، 05 جون‬‮ 2026 

مریم نواز اور حسین نواز لندن میں کیسی زندگی گزار رہے ہیں؟ پاکستان میں یہ لوگ کس چیز کی تمنا کرتے ہیں؟ 

datetime 30  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) مریم نواز اور حسین نواز لندن کی سڑکوں پر بغیر پروٹوکول کے پیدل چلتے نظر آ رہے ہیں، سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کی بیٹی اور بیٹا مریم نواز اور حسین نواز دونوں اکیلے لندن کی سڑکوں پر گھوم رہے ہیں، جب یہ لوگ پاکستان آتے ہیں تو پروٹوکول بھی مانگتے ہیں اور اقتدار میں ہونے کی وجہ سے سیلوٹ بھی وصول کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ اقتدار سے چمٹے ہوئے ہیں کیونکہ ان لوگوں کی کمزوری پروٹو کول، ہوٹر بجاتی گاڑیاں بن چکی ہیں،

یہ اپنے اردگرد چاپلوس ٹولہ چاہتے ہیں، یہ لوگ پاکستان میں جب تک جلسے میں لوگ اکٹھے نہ ہو جائیں، نعرے لگانے والے نہ آ جائیں، سیلوٹ کرنے والے نہ آ جائیں تو اس وقت تک جلسے میں نہیں جاتے اور جب جاتے ہیں تو پروٹوکول کے سمیت۔ مگر حیرت ہے کہ یہ لوگ لندن میں بغیر کسی پروٹوکول عام لوگوں کی طرح سڑکوں پر گھوم پھر رہے ہیں، آخر یہ لوگ پاکستان میں ایسا کیوں نہیں گھومتے، انہیں پاکستانی عوام سے کیا خوف آتاہے، یہاں تو سکیورٹی گارڈوں کی بارات ساتھ لیے چلتے ہیں اور کسی عام شخص سے ملنا گوارہ نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ سیاست پر قابض ہیں اور یہ لوگ خاندانی سیاست کو قائم دائم رکھنا چاہتے ہیں، یہ لوگ یہاں جمہوریت کی بات کرتے ہیں صرف اس پروٹوکول کے نشے کی وجہ سے۔ اصل جمہوریت تو یہ ہے کہ جس طرح مریم نواز اور حسین نواز لندن کی سڑکوں پر عام لوگوں کی طرح گھوم رہے ہیں پاکستان میں بھی وہ اسی طرح گھومیں تو اس وقت مانیں کہ واقعی اب جمہوریت ہے یہ لوگ عوام کے ساتھ عام لوگوں کی طرح چل رہے ہیں۔ پاکستان میں یہ لوگ دوسرے لوگوں کے ٹیکسوں پر زندگی کی وہ تمام لذتیں حاصل کرتے ہیں جو انہیں کسی دوسرے ملک میں نہیں مل سکتیں۔ پاکستان ان کے لیے سونے کی کان کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں یہ شہنشاہوں والی زندگی صرف پاکستان کی جمہوریت سے ہی مل سکتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



کوبا مایان


کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون (Cancun) میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…