بدھ‬‮ ، 15 جولائی‬‮ 2026 

برطانوی ماڈل تین سال سے ایک ہی لباس میں

datetime 13  اپریل‬‮  2015 |

لندن(نیوزڈیسک) برطانیہ کی مشہورماڈل ماٹلڈا کال نیویارک کی رہائشی ہیں اور ایک اشتہاری فرم میں کام کرتی ہیں لیکن عجیب بات یہ کہ آرٹ اور فیشن کے پیشے سے وابستہ ہونے کے باوجود وہ ایک ہی لباس پہننا پسند کرتی ہیں۔ماٹلڈا کال گذشتہ تین برسوں سے دفتر جانے کے لیے ایک ہی لباس استعمال کر رہی ہیں اور حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کا یہ لباس آفس کا یونیفارم نہیں ہے۔اشتہاری فرم ساچی اینڈ ساچی میں آرٹ ڈائریکٹر کے عہدے پر کام کرنے والی ماٹلڈا پر اگرچہ کمپنی کی طرف سے لباس کے معاملے میں کوئی پابندی عائد نہیں اس کے باوجود وہ اپنی مرضی سے یونیفارم جیسا لباس یعنی سیاہ پتلون، سفید قمیض اور شانوں پر جیکٹ ڈال کر آفس جاتی ہیں۔ماٹلڈا کے مطابق ایک بڑی اشتہاری کمپنی میں کام کرنے کی وجہ سے وہ اکثر اپنے لباس کے معاملے میں بہت زیادہ پریشان رہتی تھیں اس سے ان کی تخلیقی صلاحیتوں پر اثر پڑ رہا تھا۔ لیکن ایک ہی لباس پہننے کے فیصلے کی وجہ سے اب ان کا قیمتی وقت برباد نہیں ہوتا ہے۔ہارپر بازا ر’ میں شائع ہونے والے بلاگ میں ماٹلڈا اپنے فیصلے کی وضاحت میں لکھتی ہیں کہ تین سال پہلے ایک پیر کی صبح وہ عام دفتری خواتین کی طرح کام پرجانے کے لیے لباس منتخب نہیں کر پارہی تھیں جبکہ اس روز ایک اہم میٹنگ طے تھی لیکن غیر ضروری پریشانی کے نتیجے میں اس روز وہ آفس دیر سے پہنچیں جس پر انھیں کافی خفت بھی اٹھانی پڑی۔لہذا اسی روز میں نے اپنی اس الجھن کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہنے کا ارادہ کر لیا اور اپنی پریشانیوں کے حل کے طور پر سفید ریشمی قمیض اور سیاہ پتلون کی خریداری کی اور اس کے ساتھ ایک سیاہ چمڑے کی جیکٹ بھی خریدی جو میرے لباس کے ساتھ اچھی لگ رہی تھی۔ماٹلڈا نے بتایا کہ ابھی کچھ دنوں پہلے ان کی سفید قمیض پھٹ گئی، اس پر داغ دھبے بھی نظر آنے لگے تھے لہذا انھوں نے اس بار ایک اسٹور پر 15 نئی سفید قمیضوں اور چند سیاہ پتلونوں کا آرڈر دیا ہے جو آئندہ کئی سالوں تک ان کے لیے دفتر کی وردی کا کام کریں گی۔ما ٹلڈا لکھتی ہیں کہ سخت ڈریس کوڈ کے فیصلے کی وجہ سے انھیں اکثر عجیب و غریب تبصرے بھی سننے کو ملتے ہیں، ان سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا وہ کسی کی شرط پوری کر رہی ہیں یا پھر کیا انھیں ایک ہی لباس بور نہیں کر دیتا ہے جبکہ ان کی آفس کی ایک ساتھی جو شاید ان کے لباس سے اب بیزار آچکی ہے، پوچھتی ہیں کہ ایسا تو نہیں ہے کہ یہ کوئی مذہبی لباس ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کا بیان جھوٹ پر مبنی نہیں ہے بلکہ حقیقت میں وہ اسی جوڑے میں پچھلے تین برسوں سے لگاتار دفتر جارہی ہیں۔تاہم وہ کہتی ہیں کہ ہفتے میں کام کے پانچ دنوں کے بعد ویک اینڈ پر وہ رنگ برنگے اور شوخ لباس پہننا پسند کرتی ہیں۔ما ٹلڈا کال کے مطابق آج مجھے یہ محسوس نہیں ہوتا ہے کہ میرا لباس دوسروں کے مقابلے میں عمدہ ہے لیکن اب مجھے اپنے لباس کے بارے میں کوئی غیر ضروری فکر بھی نہیں رہی ہے کہ میں نے کیا پہنا ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ


شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…