پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

اہم اسلامی ملک کے 2حصے، عوام نے فیصلہ سنا دیا،ایران کے شدید تحفظات ،ترکی نے فوجی کارروائی کرنے کی دھمکی دیدی

datetime 26  ستمبر‬‮  2017 |

بغداد (آئی این پی )عراقی کردستان میں ریفرنڈم مکمل ہوگیا،76 فیصد کردوں نے آزادی کے حق میں ووٹ دیا،دوسری جانب ایران اور ترکی نے بھی ریفرنڈم پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عراق کے خود مختار شمالی علاقے کردستان میں آزادی ریفرنڈم کے لیے پولنگ پیر کو ہوئی جس میں 53 لاکھ رجسٹر ووٹرز نے حصہ لیا۔ غیر حتمی نتائج میں 76 فی صد کردوںنے عراق سے آزادی حاصل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

.غیر معمولی جوش و خروش دیکھنے کو ملا۔عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی کا کہنا ہے کہ ریفرنڈم نے ثابت کردیا کہ کرد عراق کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔بغداد حکومت کی مخالفت کے باجود ریفرنڈم کرانے پر عراقی پارلیمنٹ نے وزیر اعظم سے کردوں کے زیر قبضہ متنازعہ علاقوں میں فوج بھیجنے کا مطالبہ کر دیا۔ادھر ترکیاور ایران نے بھی ریفرنڈم پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ترک صدر نے کردستان سے ترکی کے راستے تیل کی برآمد پر پابندی کی دھمکی دی ہے جبکہ ایران نے عراقی کردستان کے ساتھ فضائی رابطہ عارضی طور پر منقطع کر دیا ہے۔دریں اثنا ترک صدر رجب طیب اردگان نے عراقی ریاست کردستان کی آزادی کی صورت میں فوجی کارروائی کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ عراقی ریاست کردستان میں علیحدگی کی تحریک کامیاب ہونے کی صورت میں فوجی مداخلت سے گریز نہیں کریں گے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ترک صدر رجب طیب اردگان نے عراقی ریاست کردستان میں ہونے والے ریفرنڈم پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے استصواب رائے کو خطے کے امن کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ایک پریس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ عراقی ریاست کردستان میں علیحدگی کی تحریک کامیاب ہونے  کی صورت میں فوجی مداخلت سے گریز نہیں کریں گے۔

طیب اردگان کا کہنا تھا کہ عراقی سرحد پرترک فوجی بغیر کسی مقصد کے موجود نہیں بلکہ ہم اچانک کسی بھی وقت کارروائی کرسکتے ہیں، ترک فوجی پوری طرح تیار ہیں، ملکی سلامتی و خودمختاری کو درپیش خطرات کے پیش نظر اہم اقدامات کیے جائیں گے جس میں عراق سے ملحقہ سرحد کو بند کرکے کسی بھی نقل و حمل کو روکنا سرفہرست ہے۔گزشتہ روز عراقی خودمختار ریاست کردستان میں آزاد کرد ریاست سے متعلق ریفرنڈم کا انعقاد کیا گیا جس میں 76فیصد کردوں نے علیحدہ ریاست کے حق میں رائے دی۔واضح رہے کہ عراقی ریاست کردستان میں ترکی سے ملحقہ سرحد پر 15سے20فیصد کرد آباد ہیں جو اپنی آزاد ریاست کے لیے مسلح جدوجہد کافی عرصے سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور ترکی کا ماننا ہے کہ خطے سمیت انقرہ میں ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں میں کرد مسلح جنگجووں کا ہاتھ ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…