ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

حکومت لاپتہ افراد بارے سینٹ کی سفارشات کاجائزہ لے‘ قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق

datetime 25  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(این این آئی)سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے لاپتہ افراد سے متعلق حکومت کو سینیٹ کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات کا جائزہ لینے ٗ جسٹس منصور کمال کی لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ پبلک کرنے کی ہدایت اور ورکنگ گروپ آف یو این کی سفارشات کو پبلک کرنے کی سفارش کردی۔ متحدہ قومی موومنٹ کی سینیٹر نسرین جلیل کی زیر صدارت سینیٹ کی

قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کا اجلاس ہوا۔چیئرمین کمیٹی سینیٹر نسرین جلیل نے جبری گمشدگیوں میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ملوث قرار دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ اٹھاتے ہیں ہم انہیں کو تحقیقات کا کہہ دیتے ہیں۔انہوںنے کہاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی لوگوں کو اٹھارہے ہیں اور لاپتہ افراد کو عدالتوں میں بھی پیش نہیں کیا جاتا۔نسرین جلیل نے کہا کہ لوگ دیکھتے ہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے آکے لوگوں کو اٹھا کر لے جاتے ہیں بعد میں لاپتہ افراد کی تشدد شدہ لاشیں ملتی ہیں۔انہوں نے سوال کیا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ہی قانون کی پاسداری نہیں کریں گے تو کون کرے گا۔چیئرمین کمیٹی کا کہنا تھا کہ ملک سے کئی ہزار لوگ غائب ہیں، صرف سندھ سے 502 لوگ لاپتہ ہیں۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے لاپتہ افراد کے بڑھتے ہوئے واقعات اور لاپتہ افراد سے متعلق کمیشن کے حکام کی عدم موجودگی پر تشویش کا اظہار کیا۔اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے کہا کہ پارلیمنٹ، سپریم کورٹ اور تمام ادارے لاپتہ افراد کے معاملے پر ناکام ہو چکے ہیں۔کمیٹی نے نشاندہی کی کہ لوگوں کو اٹھا لیا جاتا ہے اور کوئی سزا نہیں دی جاتی۔فرحت اللہ بابر نے مزید کہا

کہ لاپتہ افراد کے معاملے میں ملوث افراد کی شناخت کے باوجود ان کو سزا نہیں دی گئی، لاپتہ افراد کے معاملے پر کمیشن کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ کمیشن بعض جگہوں پر ناکام ہوگیا ہے۔اس موقع پر رکن کمیٹی سینیٹر کریم خواجہ نے کہا کہ پاکستان کو خود ہی معاملہ حل کرنا چاہیے، معاملہ یو این میں گیا تو ملک کی بدنامی ہوگی۔اجلاس کے دوران اس بات

کی نشاندہی بھی کی گئی کہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے دوران مبینہ طور پر لوگوں کو لاپتہ کیا۔بعد ازاں چیئرمین نیشنل کمیشن فار ہیومن رائٹس نے کمیٹی کو بتایا کہ ملک میں لاپتہ افراد سے متعلق کوئی قانون ہے نہ ہی لاپتہ افراد کی تشریح واضح ہے۔جس کے بعد کمیٹی نے حکومت کو سینیٹ کی جانب سے بھیجی گئی سفارشات کا

جائزہ لینے، جسٹس منصور کمال کی لاپتہ افراد سے متعلق رپورٹ پبلک کرنے کی ہدایت اور ورکنگ گروپ آف یو این کی سفارشات کو پبلک کرنے کی سفارش کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بٹرفلائی افیکٹ


وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…