پیر‬‮ ، 16 فروری‬‮ 2026 

لکھوی کی رہائی کے لیے ہندوستان ذمہ دار: دفترخارجہ

datetime 11  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد/نئی دہلی (نیوز ڈیسک)ممبئی حملے کے ملزم ذکی الرحمان لکھوی کی رہائی پر ہندوستان کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے دفترِ خارجہ اس پیش رفت کا ذمہ دار ہندوستان کو ہی قرار دیا ہے۔دفترِ خارجہ کی ترجمان تسنیم اسلم نے کہا کہ ’’ہندوستان کے تعاون کی توسیع میں غیرمعمولی تاخیر نے اس مقدمے کو پیچیدہ بنادیا ہے اور استغاثہ کا کیس کمزور کردیا ہے۔‘‘ممبئی میں 2008ء4 کو ہوئے دہشت گرد حملے کے مبینہ ماسٹرمائنڈ لکھوی ضمانت پر اس وقت رہا ہوگئے، جب لاہور ہائی کورٹ نے انہیں زیرحراست رکھنے کے حکومتی حکم کو منسوخ کردیا۔دسمبر 2008ء میں لکھوی کو گرفتار کیا گیا تھا، ان کی ضمانت دسمبر میں ہی منظور کرلی گئی تھی، لیکن حکومت نے عارضی احکامات کے تحت انہیں حراست میں رکھا ہوا تھا۔ ان کے ساتھ سات ملزمان کو اس حملے میں ملوث ہونے پر راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جارہا ہے۔دفترِ خارجہ سے جاری ہونے والا یہ بیان ہندوستانی ہائی کمشنر ٹی سی اے راگھوان کی سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری سے ملاقات کے بعد جاری کیا گیا، اس ملاقات میں راگھوان نے لکھوی کی رہائی پر احتجاج کیا تھا۔
ہندوستانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان سید اکبر الدین کے مطابق ہائی کمشنر راگھوان نے سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری سے ملاقات میں کہا کہ لکھوی کی رہائی سے اس تصور کو تقویت پہنچی ہے کہ پاکستان دہشت گردوں سے نمٹنے کی دوہری پالیسی پر گامزن ہے، اور ایسے لوگ جو ہندوستان پر حملے کرتے ہیں یا اس کے لیے خطرہ ہیں، ان کے ساتھ بالکل الگ طریقے سے نمٹا جاتا ہے، اور انہوں نے زور دیا کہ دوطرفہ تعلقات میں یہ اب تک کی سب سے زیادہ منفی پیش رفت ہے۔اسی دوران تسنیم اسلم نے کہا ’’ممبئی حملے کے ملزمان کا یہ مقدمہ زیرِسماعت ہے۔ اس وقت دہشت گردی سے مقابلہ کرنے کے لیے پاکستان کے عزم پر بہتان لگانا مناسب نہیں ہوگا، جبکہ پاکستان دہشت گردی کی لعنت کو شکست دینے کے ایک اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔‘‘انہوں نے کہا ’’ہم عدالتی عمل کا احترام کرتے ہیں، اور ہمیں اعتماد ہے کہ یہ انصاف کے مفاد میں کام کرے گا۔‘‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ


نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…