بدھ‬‮ ، 04 مارچ‬‮ 2026 

چین پاک ایران گیس پائپ لائن مکمل کرے گا،شاہدخاقان عباسی

datetime 10  اپریل‬‮  2015 |

 
اسلام آباد(نیوزڈیسک)امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چین ایران سے آنے والی قدرتی گیس کی پائپ لائن پاکستان کے اندر تعمیر کرے گا۔وفاقی وزیر شاہد خاقان عباسی نے دی وال سٹریٹ جرنل کو دیے گئے انٹرویو میں بتایا کہ پاک ایران گیس پائپ لائن پر کام شروع ہے۔’ہم اسے بنا رہے ہیں۔ رواں ماہ پاکستان میں چینی صدر شی جن پنگ کے متوقع دورے کے موقع پر اس معاہدے پر دستخط ہوں گے۔‘یاد رہے کہ اس سے قبل امریکہ نے پاکستان کو خبردار کیا تھا کہ اگر اس نے ایران کے ساتھ پائپ لائن منصوبے میں پیش رفت کی تو اس پر پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں۔تاہم 31 مارچ کو ایران کے ساتھ امریکہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کے معاہدے کے بعد صورتحال بدلتی دکھائی دے رہی ہے۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ ابھی ایران پر عائد امریکی پابندیاں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ عبوری معاہدے کے بعد حتمی معاہدے کا انتظار ہے جس کے بارے میں توقع کی جارہی ہے کہ وہ جون 2015 میں میں عمل میں آئے گا۔اخبار کے مطابق پاکستان گذشتہ کئی ماہ سے چین کے ساتھ پاک ایران گیس پائپ لائن کے منصوبے پر گفت و شنید کر رہا ہے۔ پاکستان اس منصوبے کو پورا کرنے کے لیے کم از کم ڈیڑھ ارب امریکی ڈالر کی رقم درکار ہو گئی۔
تہران کا کہنا ہے کہ اس نے اپنی جانب 900 کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانے کا کام مکمل کر لیا ہے۔اگرچہ پاکستان نے ابھی اس پائپ لائن کو بنانے کا کام شروع نہیں کیا تاہم پاکستان نے گودار سے نواب شاہ تک چین کے تعاون سے گیس پائپ لائن بچھانے کے لیے بات چیت شروع کر رکھی ہے تاکہ 700 کلومیٹر طویل پائپ لائن کو ملک میں موجود گیس پائپ لائنوں کے نیٹ ورک سے جوڑا جا سکے۔اس گیس پائپ لائن منصوبہ ٹیک دس سال قبل سامنے آیا تھا۔ ابتدائی منصوبے کے مطابق اس پائپ لائن کو بھارت تک جانا تھا تاہم تہران کا الزام ہے کہ 2009 میں امریکی دباو¿ کی وجہ سے بھارت اس منصوبے سے الگ ہوگیا تھا۔اسی سال مئی میں مسلم لیگ نون کے اقتدار میں آنے کے بعد وزیرِ پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ’ایران کے ساتھ کاروبار کی وجہ سے اقوام متحدہ کی پابندیوں کے خدشے کے باعث کوئی بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اس منصوبے میں رقم لگانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ تعمیراتی کمپنیاں کام کرنے کو تیار نہیں اور ضروری سازوسامان فروخت کرنے والے ادارے بھی اس منصوبے کے لیے سامان فراہم کرنے کو تیار نہیں ہیں۔‘
شاہد خاقان عباسی نے کہا تھا کہ ان حالات کے باوجود حکومت پاکستان اس منصوبے کو مردہ تصور نہیں کرتی بلکہ اس میں سرمایہ کاری کے لیے متبادل ذرائع تلاش کر رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اختتام کا آغاز


’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…