منگل‬‮ ، 09 جون‬‮ 2026 

افغان فوج پر اربوں ڈالر لگاکر بھی امریکہ حیران و پریشان،سوچا کچھ تھا اور ہوکچھ اور ہی گیا

datetime 23  ستمبر‬‮  2017 |

کابل(این این آئی)ایک امریکی آڈیٹر نے افغان افواج کی جانب سے ملک کو خطرات سے نکالنے اور دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو پھر سے ابھرنے نہ دینے کے کام میں ناکامی کا ذمہ دار ناقص منصوبہ بندی اور تربیت کو قرار دیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق غیر جانبدار

ادارے کے ایک سربراہ نے متنبہ کیا کہ جب تک افغان فوج کی تربیت کا انداز نہیں بدلا جائے گا، تب تک فراہم کیے جانے والے اربوں ڈالر ضائع جاتے رہیں گے۔افغانستان کی تعمیرِ نو کے خصوصی انسپیکٹر جنرل، جان سوپکو کے اس جائزے سے پہلے 3000 اضافی فوجیں افغانستان بھیجنے کا فیصلہ کیا جا چکا ہے، جو وہاں موجود امریکی فوجوں کی تعداد میں 25 فی صد سے زائد کا اضافہ ہے۔اْنھوں نے کہا کہ امریکی مشن افغانستان کے عوام کے دل اور دماغ جیتنے کے کوشش کرنا ہے، تاکہ وہ اپنے ملک کے لیے لڑائی جاری رکھیں۔ تاہم، اْنھوں نے اس جانب توجہ مبذول کرائی کہ سب سے پہلے افغان افواج کی طرف دھیان مرکوز کرنا ہوگا۔ادارے کے سربراہ کے بقول وہ نہیں لڑیں گے اگر اْنھیں یہ شک ہو کہ اْنھیں اس کا معاوضہ نہیں ملے گا۔ انسپیکٹر جنرل کے دفتر نے ایک رپورٹ جاری کی ہے جس کا تعلق گذشتہ 16 برس کے دوران سیکھا گیا، جس کا مقصد آئندہ کی تربیتی کاوشوں میں بہتری لانا ہے۔سوپکو نے نظام میں موجود مسائل کی جانب بھی نشاندہی کی، جن کا تعلق حوصلے، تعلیم کی کمی، منشیات کے استعمال اور بدعنوانی سے ہے۔ایک سوال کے جواب میں، اْنھوں نے کہا کہ فوجیوں کی چند بیواہیں پینشن کے فوائد کے حصول کے لیے غلط کاری تک مجبور ہوئیں۔



کالم



ریو سیکریٹو


دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…