ہفتہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2026 

اب کھانہ کھانے کے لیے بھی لائنوں میں کھڑا ہو نا پڑے گا

datetime 9  اپریل‬‮  2015 |

دمشق (نیوز ڈیسک) شام اور عراق کے متعدد علاقوں میں داعش نے اپنی خلافت قائم کررکھی ہے اور داعش کا میڈیا ونگ اپنے زیر انتظام علاقوں کو ایک خوشحال فلاحی مملکت کے طور پر پیش کرتا ہے لیکن حال ہی میں انٹرنیٹ پر شائع کی جانے والی تصاویر نے داعش کی فلاحی مملکت کا پول کھول دیا ہے۔ داعش کے خلاف آواز اٹھانے والی تنظیم Raqqa is Being Slaughtered Silently کے ارکان نے شدت پسند تنظیم کے دارالحلافہ رقہ کے بازاروں میں جاکر اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر کچھ تصاویر بنائیں اور انہیں انٹرنیٹ پر شائع کردیا ہے۔ ان تصاویر میں رقہ شہر کے لوگ سینکڑوں کی تعداد میں خوراک کے لئے خوار ہوتے نظر آتے ہیں۔ داعش کا پردہ چاک کرنے والے ادارے کے بانی رکن ابو ابراہیم رقوی نے ان افسوسناک تصاویر کے ذریعے انکشاف کیا ہے کہ کبھی خوشحال زندگی گزارنے والے رقہ کے شہری اب سینکڑوں کی تعداد میں گھنٹوں قطاریں بنا کر کھڑے رہتے ہیں تاکہ انہیں کھانے کا کچھ سامان میسر آسکے۔ خوراک کے علاوہ شہر میں توانائی کی بھی شدید قلت بتائی گئی ہے اور انکشاف کیا گیا ہے کہ روزانہ تقریباً 21 گھنٹے کے لئے بجلی نہیں آتی، جبکہ تشدد ہلاکتیں اور شدید خوف و ہراس اس کے علاوہ ہے۔واضح رہے کہ داعش کی طرف سے انٹرنیٹ پر کثرت سے تصاویر اور ویڈیو بھیجی جاتی ہیں جس میں اس کے زیر انتظام علاقوں میں لوگوں کو بہت خوش دکھایا جاتا ہے اور اکثر ویڈیوز میں لوگ داعش سے محبت کا اظہار کرتے دکھائے جاتے ہیں، مگر حالیہ انکشافات ظاہر کرتے ہیں کہ حقائق بہت مختلف ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…