ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

سانحہ ماڈل ٹائون رپورٹ پبلک کرنے کا عدالتی حکم آتے ہی شہباز شریف کا استعفیٰ اور۔۔طاہر القادری نے کیا دھماکہ دار اعلان کر دیا

datetime 21  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)لاہور ہائیکورٹ کی جانب سے سانحہ ماڈل ٹائون کی رپورٹ پبلک کرنے کے حکم کے بعد نجی ٹی وی اے آر وائی نیوز پر خبر کا تجزیہ کرتے ہوئے پاکستان کے معروف اینکر پرسن وسیم بادامی نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان کا

عدالت کی جانب سے حکم نامہ سامنے آنے کے بعد طاہر القادری سے رابطہ ہوا ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس کرنے جا رہے ہیں۔ وسیم بادامی کا کہنا تھابڑے واضح انداز میں نظر آرہا ہے کہ شریف خاندان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے طاہر القادری کا سارے کا سارا کیس ہی ماڈل ٹائون سانحہ پر منحصر ہے۔اگر ایک طرف طاہر القادری پریشر ڈالیں اور دوسری طرف سے سانحہ ماڈل ٹائون کی رپورٹ منظر عام پر لانے کا مطالبہ سامنے آئے تو مجھے نظر آرہا ہے کہ استعفوں کا مطالبہ سامنے آسکتا ہے اور اس وقت ن لیگ کی حکومت جو کئی محاذوں پر پریشر میں ہے اس پر ایک اور بہت بڑا پریشر پڑنے جا رہا ہے۔واضح رہے کہ سیاسی مبصرین عدالتی حکم نامہ سامنے آنے کے بعد طاہر القادری کی جانب سے ایک اور دھرنے کا امکان ظاہر کر رہے ہیں جس کا اعلان ممکنہ طور پر وہ اپنی پریس کانفرنس میں کر سکتے ہیں۔ وسیم بادامی نے اس حوالے سے مزید کیا کہا۔۔ویڈیو ملاحظہ کریں!

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…