جمعہ‬‮ ، 26 جون‬‮ 2026 

پاکستان میں یوٹیوب پر پابندی غیر معینہ مدت کے لیے برقرار

datetime 7  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک)پاکستان ٹیلی کمیونیشن اتھارٹی کے چیئرمین سید اسماعیل شاہ نے کہا ہے کہ ’یوٹیوب پر عائد پابندی تب تک ختم نہیں جا سکتی جب تک اس سلسلے میں سپریم کورٹ کا حکم تبدیل نہ ہو یا پھر پارلیمان سیکیورٹی کے بل کا وہ ڈرافٹ پاس نہیں کرتی جس سے پی ٹی اے کو بااختیار بنایا جائے۔‘
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پی ٹی اے کے چیئرمین کا کہنا تھا کہ ’اس سلسلے میں سپریم کورٹ میں مقدمہ چل رہا ہے۔ متعبر جج صاحبان یہی طے کریں گے کہ آیا پی ٹی اے کو حکومتی احکامات پرانٹرنیٹ پر ویب سائٹس پر پابندی عائد کرنی چاہیے یا اس کے لیے قانون سازی کی جائے۔‘پی ٹی اے کہ چیئرمین نے بتایا کہ ’ان کا ادارہ سپریم کورٹ کے حکم کےمطابق اِس وقت صرف شہریوں کی شکایات پر نامناسب مواد بند کر سکتا ہے۔‘اس سلسلے میں انٹرنیٹ کی آزادی کے لیے کام کرنے والی ایک تنظیم ’بائٹس فار آل‘ کے وکیل سلمان اکرم راجہ نے بتایا کہ ’بظاہر پی ٹی اے کے ایکٹ میں مواد پر پابندی لگانے کا واضح قانون یا طریقہ کار موجود نہیں کیونکہ اس ایکٹ کے مطابق پی ٹی اے بظاہر لائسنس یا آلات سے متعلق قانون سازی کر سکتی ہے مگر انٹرنیٹ پر مواد پر پابندی لگانا براہ راست ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتا جب تک کہ عدالتی یا حکومتی کور نہ ہو۔‘انٹرنیٹ پاکستان سمیت بہت سے ملکوں کے لیے اب بھی نئی چیز ہے اس لیے کیا انٹرنیٹ پر جانا چاہیہے اور کیا نہیں اس سے متعلق پیچیدگیاں موجود ہیں۔
چیرمین پی ٹی اے سلمان اکرم راجہ کا کہنا تھا کہ وہ یہی موقف سپریم کورٹ میں پیش کریں گے۔
تین برس پہلے سپریم کورٹ نے پی ٹی اے کو حکم دیا تھا کہ یوٹیوب پر اس توہین آمیز وڈیو فلم کو بلاک کر دیا جائے جس کے نتیجے میں پاکستان کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔
بائٹس فار آل اس پابندی کو ہائی کورٹ کے بعد بہت جلد ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے والی ہے۔
تنظیم کا مو¿قف ہے کہ عدالتی حکم کے مطابق یوٹیوب پر صرف وہ وڈیو فلم بلاک ہونی چاہیے تھی مگر پی ٹی اے نے دنیا کی سب سے بڑی وڈیو آرکایو کو مکمل بند کر دیا ہے جو کہ غیر قانونی ہے۔
دوسری جانب عدالت میں پی ٹی اے کا مو¿قف یہ ہے کہ چونکہ ان کا یوٹیوب کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے اور نہ ہی متنازع مواد کو یوٹیوب سے ہٹانے کی تکنیکی قوت، اس لیے پوری ویب سائٹ کو بند کرنا پڑ رہا ہے۔
صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والح تنظیم رپوٹرز وِدآو¿ٹ بارڈرز کی ایک رپورٹ کے مطابق پی ٹی اے نے اس وقت 20 سے 40 ہزار کے قریب ویب سائٹس پر پابندی لگائی ہوئی ہے۔
پی ٹی اے کے چیئرمین سید اسماعیل شاہ نے اس متعلق کہا کہ ’ان ویب سائٹس پر زیادہ تر فحش یا ایسا مواد ہے جو کہ قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ ہے۔‘
بی بی سی چیئرمین سے پوچھا کہ ایسا کیوں ہے کہ بیشتر بلوچ ویب سائٹس تو بند ہیں مگر انتہاپسندی پھیلانے والی ویب سائٹس کسی روک ٹوک کے بغیر چل رہی ہیں؟
اس پرسید اسماعیل شاہ کا کہنا تھا کہ ’انٹرنیٹ پاکستان سمیت بہت سے ملکوں کے لیے اب بھی نئی چیز ہے۔ اس لیے کیا انٹرنیٹ پر جانا چاہیے اور کیا نہیں، اس سے متعلق پیچیدگیاں موجود ہیں۔‘

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



اواتار مائونٹین


اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…

محمد بوٹا انجم

محمد بوٹا میاں چنوں کے گائوں چک 15 میں پیدا ہوا‘…

فلم میں بھی ہارنے سے انکار

یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…