پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے افغانستان کے ساتھ سرحد پر900چیک پوسٹیں قائم کرلیں، دوسری طرف کتنی پوسٹیں ہیں؟حیرت انگیزانکشاف

datetime 20  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد(آئی این پی)مسلم لیگ (ن) کے رہنما سینیٹر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم ملک نے کہا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے قومی اسمبلی اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی دفاع کی ملاقات میں اس بات کا انکشاف کیا گیا کہ افغانستان کیساتھ ملنے والے بارڈر میں پاکستان نے 900چیک پوسٹس بنا رکھی ہیں جبکہ افغانستان کی طرف سے صرف200چیک پوسٹس موجود ہیں اور افغان حکومت نے 600کلومیٹرکے ایریا میں کوئی چیک پوسٹ نہیں بنائی جس کی وجہ سے دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو جاتے ہیں ،

پارلیمنٹ اور فوج کے درمیان رابطے کا فقدان ہے ، آرمی چیف کو سینیٹ کی ہول کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے جسے انہوں نے قبول کر لیا ہے ۔ ایک انٹرویو میں جنرل قیوم نے کہا کہ جی ایچ کیو میں قائمہ کمیٹیوں کے ارکان کو بھارت ، افغانستان اور امریکہ سے تعلقات کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی اور دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ میں پاک فوج نے جو نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں اس حوالے سے بھی تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ۔ آرمی چیف سے سینیٹرز نے دفاع ، ڈرون حملوں ، پاک افغان بارڈر منیجمنٹ ، امریکی صدر ٹرمپ کی نئی پالیسی پر سوالات کئے جن کا آرمی چیف نے کھل کر جواب دیا ۔ انہوں نے کہا کہ آرمی چیف نے واضح کیا کہ ان کے سابق وزیراعظم نوازشریف سے بھی بہت اچھے تعلقات تھے اور موجودہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی سے اچھے تعلقات ہیں ۔ دفاع اور خارجہ پالیسی کو تشکیل دینا حکومت اور پارلیمنٹ کا کام ہے ، فوج اس پالیسی پر عمل درآمد کرتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ بعد میں لنچ پر بھی ان سے بات چیت جاری رہی جس میں لاہور کے این اے 120کے ضمنی الیکشن کا ذکر ہوا جس پر آرمی چیف نے بتایا کہ انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ٹیلی فون کر کے کلثوم نواز کی کامیابی پر مبارکباد دی ہے ۔انہوں نے کہا کہ آرمی چیف سے ملاقات بہت اچھی رہی ، پارلیمنٹ اور فوج کے درمیان رابطے کا فقدان ہے ان رابطوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ ایک دوسرے کا نقطہ نظر بہتر انداز میں سمجھا جا سکے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…