پیر‬‮ ، 24 اگست‬‮ 2026 

ریاست کو درپیش خطرات ،چوہدری نثار کے انکشافات پر حکومت نے وضاحت کردی،آرمی چیف کے بارے میں بڑا دعویٰ

datetime 19  ستمبر‬‮  2017 |

اسلام آباد (این این آئی)وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا ہے کہ ریاست کو درپیش ایسے کوئی خطرات نہیں جو کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی کے علم میں نہ ہوں ٗشاہد خاقان عباسی آئینی وزیراعظم ہیں ٗ ریاست کے تمام معاملات اور خطرات ان کے علم میں ہیں ٗعسکری قیادت اور آرمی چیف ریاست کو درپیش چیلنجوں سے آگاہ ہیں ٗ اتحاد سے ہم چیلنجوں پر قابو پاسکتے ہیں۔

منگل کو سینٹ میں قائد حزب اختلاف سینیٹر اعتزاز احسن اور عثمان کاکڑ کے نکتہ اعتراض کے جواب میں وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی ریاست کو درپیش ایسے کوئی خطرات نہیں جو کابینہ کمیٹی برائے قومی سلامتی کے علم میں نہ ہوں ٗکمیٹی کے اجلاس باقاعدگی سے ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا کوئی انتظامی فورم نہیں ہے جس میں صرف چار افراد کو ملک کو درپیش خطرات کا علم ہو۔ انہوں نے کہا کہ شاہد خاقان عباسی آئینی وزیراعظم ہیں۔ ریاست کے تمام معاملات اور خطرات ان کے علم میں ہیں۔ عسکری قیادت اور آرمی چیف ریاست کو درپیش چیلنجوں سے آگاہ ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی کے ارکان بھی آگاہ ہیں۔ پاکستان کو مختلف چیلنجوں کا سامنا ہے۔ بہت سی قوتیں پاکستان کی طاقت سے خائف ہیں۔ ہماری معاشی طاقت کی بحالی کو بھی خطرہ سمجھا جاتا ہے۔ سی پیک کے حوالے سے بھی ہمارے ہمسایہ ملک کے آرمی چیف‘ وزیر خارجہ کے پیغامات موجود ہیں۔ بھارت کے جاسوس کلبھوشن کے اعترافات بھی ریکارڈ پر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو کوئی ایسا خطرہ اور چیلنج نہیں جو پاکستانی قوم کے قابو سے باہر ہو۔ اتحاد سے ہم چیلنجوں پر قابو پاسکتے ہیں۔ آج دنیا میں جنگیں اطلاعات کی بنیاد پر لڑی جارہی ہیں۔ ہمیں بھی اسی جنگ کا سامنا ہے۔ پوری قومی قیادت کا فرض ہے کہ ہم دانشمندی سے ان خطرات سے نکلیں۔ انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ کے پالیسی بیان سے بھی صورتحال کھل کر سامنے آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم خطے میں امن چاہتے ہیں ٗ تمام ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنا چاہتے ہیں۔ قومی سلامتی کمیٹی نے بھرپور جواب بھی دیا ہے۔ حکومت اور ریاستی ادارے صورتحال سے مکمل طور پر باخبر ہیں ٗکوئی ایسی خبر نہیں جو ذمہ دار منصب پر فائز افراد کے علم میں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہی کچھ گروہ افغانستان کی سرزمین استعمال کرکے بلوچستان میں تخریبی کارروائیاں کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اسی وجہ سے سیکیورٹی ادارے حفاظتی اقدامات کرتے ہیں۔

اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ چوہدری نثار نے کہا تھا کہ ریاست کو تباہ کرنے کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔انہوں نے چوہدری نثار کے ایک بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابق وزیر داخلہ نے کہا تھا کہ شاید جنرل قمر جاوید باجوہ کو ان خطرات کا علم ہو لیکن نئے وزیراعظم کو علم نہیں۔اعتزاز احسن نے کہا کہ سابق وزیر داخلہ کو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کی دعوت دی جائے۔

اجلاس کے دور ان سینیٹر شیری رحمان کے توجہ دلاؤ نوٹس کے جواب میں وزیر داخلہ احسن اقبال نے کہا کہ عوامی مرکز اسلام آباد میں آتشزدگی میں کوئی سازش نہیں ہے۔ وفاقی ٹیکس محتسب کا دائرہ اختیار تحقیقات نہیں ہوتا بلکہ اس کے پاس لوگ اپنی شکایات کے ازالے کے لئے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی پیک کا سیکرٹریٹ عوامی مرکز میں نہیں وزارت منصوبہ بندی میں ہے۔ تمام ریکارڈ وہیں پر ہے اور محفوظ ہے ٗ عوامی مرکز میں صرف تحقیق کا مرکز تھا اس کا ریکارڈ بھی محفوظ ہے۔

وزیراعظم نے کمیٹی قائم کردی ہے ٗ 21 ستمبر کو کمیٹی فرانزک رپورٹ پیش کردے گی۔ عوامی مرکز میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے آگ لگی، دس منٹ میں فائر بریگیڈ بھی پہنچ گئی ٗاسلام آباد میں تیز ہواؤں کی وجہ سے آگ بے قابو ہوئی، دو نوجوانوں کی ہلاکت کا واقعہ افسوسناک ہے، دم گھٹنے کے باعث انہوں نے چھلانگ لگانے کی کوشش کی لیکن نیچے موجود عملہ انہیں بچانے میں ناکام رہا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے اس کا نوٹس پہلے ہی لیا ہوا ہے۔

سی ڈی اے کو ہدایت دی جاچکی ہے‘ تمام بڑی عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرایا جائے۔ ایسا نہ کرانے والے مالکان کو جرمانہ کیا جائے گا اور ان کے خلاف کارروائی ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…