منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے اہم علاقے سے سینکڑوں افراد کی جنگ کیلئے شام روانگی،امریکی رپورٹ میں حیرت انگیزانکشافات

datetime 17  ستمبر‬‮  2017 |

واشنگٹن(این این آئی)امریکا میں قائم ’جمہوریتوں کے دفاع کی فاؤنڈیشن‘ نے کہاہے کہ ایرانی حکام ہزاروں پاکستانی اور افغان شیعہ شہریوں کو شام میں لڑنے کے لیے بھرتی کر رہے ہیں۔ ان افراد کو پرکشش تنخواہوں اور مراعات کی پیشکش کی جا رہی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق امریکا میں قائم ’ڈیفنس فار ڈیموکریسیز فاؤنڈیشن‘ سے منسلک ایرانی تحقیقی تجزیہ کار امیر توماج نے کہاکہ خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں اسد حکومت کی افواج کے شانہ بشانہ لڑنے والے افغان شیعہ جنگجوؤں کی تعداد چھ ہزار ہے

جبکہ وہاں ’زینبیون‘ نامی بریگیڈ کے پرچم تلے لڑنے والے شیعہ پاکستانیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں ہے۔انسداد دہشت گردی کے حکام اور تجزیہ کاروں کا کہنا تھا کہ اس طرح بھرتی کیے گئے افراد کو چھ سو امریکی ڈالر ماہانہ کے برابر تنخواہ، ایران میں ممکنہ ملازمت کی پیشکش اور وہاں ایک مکان دینے کے وعدے بھی کیے جاتے ہیں۔امیر توماج کے بقول افغان صوبے خراسان میں شیعہ اقلیت پر بڑھتے ہوئے حملے ممکنہ طور پر شام میں اسد نواز جنگجوؤں کے ’فاطمی بریگیڈ‘ میں افغان شیعہ شہریوں کی شمولیت کا نتیجہ ہو سکتے ہیں۔ افغان صوبے خراسان میں شیعہ اقلیت پر ایسے کئی حملوں کی ذمہ داری جہادی گروپ ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش قبول کر چکا ہے۔توماج نے مزید بتایاکہ لوگوں کو خدشہ تھا کہ اس کے نتیجے میں خونریزی بڑھے گی۔ اس لیے کہ فرقہ ورانہ فسادات کو ہوا دینے کے لیے داعش کی اپنی ہی ایک حکمت عملی ہے۔امیر توماج کے مطابق پاکستان سے شیعہ جنگجوؤں کی بھرتی کے حوالے سے ایران کے لیے سب سے زرخیز مقام پارہ چنار ہے، جو افغان سرحد سے متصل پاکستانی قبائلی علاقے کا حصہ ہے۔ پاکستان کے اسی علاقے میں کئی بار مقامی شیعہ باشندوں پر ہلاکت خیز حملے کیے جا چکے ہیں، جن میں سے کئی کی ذمے داری داعش یا ممنوعہ سنی عسکریت پسند تنظیمیں قبول کر چکی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…