ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ڈان لیکس کی حقیقت، مریم نواز کا بڑا سرپرائز، سب کچھ سامنے لے آئی

datetime 16  ستمبر‬‮  2017
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

لاہور ( این این آئی) مسلم لیگ (ن) کی مرکزی رہنما مریم نواز نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی بھی طرح انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترا،ہم نے احتساب کے نظام پر انتقام کا سامنا کیا ،نواز شریف نے چار سال میں کچھ ایسے سمجھوتے کیے جو انہیں نہیں کرنے چاہیے تھے،میرے ذاتی خیال میں ڈان لیکس کی حقیقت کو سامنے آنا چاہیے تھا،این اے 120 کے ضمن انتخاب میں صرف کامیابی ہی نہیں بلکہ بڑے مارجن سے جیت کر سازشیوں کو جواب دیں گے ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز ماڈل ٹاؤن میں حلقہ این اے120 میں  اتوارکو ہونے والے ضمنی انتخاب کے حوالے سے حکمت عملی کا جائزہ لینے کے لئے منعقدہ اجلاس کی صدارت اور ایک انٹرویو کے دوران کیا ۔ اجلاس میں پرویز رشید ، پرویز ملک ، شائستہ پرویز ملک ، کرنل (ر) مبشر جاوید سمیت دیگر رہنماؤں نے شرکت کی ۔ اجلاس میں ضمنی انتخاب کے حوالے سے حکمت عملی پر غور کرنے کے ساتھ رہنماؤں کی ڈیوٹیاں بھی لگائی گئیں ۔ اس موقع پر مریم نواز نے کہا کہ این اے 120(ن) لیگ کے متوالوں کا حلقہ ہے اور یہاں سے ہمیشہ بھاری اکثریت سے جیتیں ہیں ، اتوارکو ہونے والے ضمنی انتخاب میں بھی نہ صرف کامیابی بلکہ بھاری اکثریت سے جیتیں گے ۔ انہوں نے کہا کہ میں حلقے میں جہاں بھی گئی ہوں عوام نے نوازشریف سے اپنی بھرپور محبت کا اظہار کیا ہے اور یہ ہمارے لئے سرمایہ حیات ہے ۔نواز شریف کے خلاف چار سال میں جو سازشیں ہوئی ہیں ان میں کبھی دھرنا کبھی دھاندلی او رکبھی دھرنا IIپھر پانامہ آیا اور اس کا انجام اقامہ پر ہوا ۔ پانامہ پرچلنے والا مقدمے کے انجام مذاق پر ہوا ۔اب عوام بتا دیں گے کہ نواز شریف ہی ان کا حقیقی لیڈر ہے ، جس دن فتح کی خبر آئے گی اس کے اگلے روز گلی محلوں کے مسائل کے حل کے لئے پورا زور لگا دیں گے۔ نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے مریم نواز نے کہاکہ سپریم کورٹ کا فیصلہ کسی بھی طرح انصاف کے تقاضوں پر پورا نہیں اترا اور دنیا اس فیصلے پر حیران ہے جب کہ ہمیں فئیر ٹرائل کا موقع نہیں ملا۔انہوں نے کہا کہ مریم نواز نے کہا کہ کورٹ کے جواب میں جواب بھی ہے اور سوال بھی ہے، ڈیڑھ سال سے جو سلوک روا رکھا گیا اس کے بعد انصاف کی امید رکھنا زیادہ ممکن نہیں تھا تاہم نظر ثانی کی پٹیشن قانونی تقاضا تھا اور انہی توقعات کے ساتھ ہم نے سوچا کہ نظام عدل کو ایک بار پھر آزمالیں۔ان کا کہنا تھا کہ پچھلے ڈیڑھ سال میں بدترین میڈیا ٹرائل اور بدترین عدالتی ٹرائل ہوا، ہم نظام میں رہ کر نظام سے لڑے اور اپنے حق کے لیے لڑے، ہم نے احتساب کے نظام پر انتقام کا سامنا کیا ہے، ڈیڑھ سال ہم چپ رہے، اب بول رہے ہیں تو سننے کا حوصلہ رکھیں۔ڈان لیکس سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہا کہ میرے ذاتی خیال میں ڈان لیکس کی حقیقت کو سامنے آنا چاہیے تھا۔سابق وزیراعظم کی صاحبزادی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے چار سال میں کچھ ایسے سمجھوتے کیے جو انہیں نہیں کرنے چاہیے تھے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…