اسلام آباد(نیوز ڈیسک) جنگ زدہ یمن کی صورتحال اور سعودی عرب کی سلامتی کے معاملے پر بلائے گئے اہم اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر چودھری اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ مشترکہ ایوان ایک سپریم ادارہ ہے لیکن یمن جنگ پر اجلاس ”گونگلوئوں” سے مٹی جھاڑنے کے برابر ہے۔ حکومت گول مول باتیں کرکے مینڈیٹ حاصل کرنا چاہتی ہے۔ چودھری اعتزاز نے کہا کہ وزیراعظم کو پوری اُمت مسلمہ میں جانا چاہیے تھا لیکن افسوس وہ صرف ترکی ہی گئے۔ صرف ترکی اور ریاض وفد بھیجنے سے کام نہیں ہوگا۔ وزیراعظم سب کو اکھٹا کرکے اس اہم مسئلے کا حل تلاش کریں۔ کوشش کریں کہ یہ آگ جنگ کی بجائے سفارتکاری سے بجھ جائے۔ پاکستان کو یمن کے معاملے پر فریق نہیں بلکہ ثالثی کا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اعتزاز احسن نے مطالبہ کیا کہ ایوان کو بتایا جائے کہ سعودی عرب کی جغرافیائی سرحدوں کو کس صورت خطرہ ہے؟۔ حکومت سعودی عرب کے معاملے پر اپنی واضع ترجیحات، ارادے اور کمٹمنٹس بتائے؟ یہ بھی بتایا جائے کہ پاکستانی فوج سعودی عرب بھیجنے کے اخراجات کون برداشت کرے گا اور پاکستانی فوجی دستوں کی سعودی عرب میں کمانڈ کون کرے گا؟۔ –
پاکستان یمن کی جنگ میں ثالثی رہے، فریق نہ بنے
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
موسمی پرندے
-
مولانا طارق جمیل نے بچے سے ہاتھ کیوں نہیں ملایا اور بچہ کون ہے؟ وضاحت سامنے آگئی
-
ڈاکٹر سارنگ ہلاکت کیس میں اہم پیش رفت،مقتول کی اہلیہ مبینہ طور پر ملوث نکلی
-
پیٹرول کی قیمتیں کب کم ہوں گی؟ خواجہ آصف نے بڑی خوشخبری سنا دی
-
عید الاضحیٰ کے دوران ملک بھر میں موسم کیسا رہےگا؟ محکمہ موسمیات نے پیشگوئی کردی
-
تعلیمی اداروں میں موسم گرما کی تعطیلات کا اعلان
-
انمول پنکی کیسے گرفتار ہوئی؟ تہلکہ خیز انکشافات سامنے آگئے
-
بیرونِ ملک جانے والے پاکستانی شہریوں کو اہم ہدایت جاری
-
پاکستان کی ایران جنگ بندی کوششیں، یو اے ای ناراض، پاکستانی کارکنوں کی بے دخلی شروع، نیو یارک ٹائمز ک...
-
آئی پی پیز کو دفن کر دیا ، اب بجلی کو اتنا سستا کرنے جا رہے ہیں کہ لوگ بیٹری میں محفوظ کر کے را...
-
ایک میزائل، متعدد نشانے، بھارت کا’’مشن دیویاستر‘‘ کے تحت ایڈوانسڈ اگنی میزائل کا کامیاب تجربہ
-
ذوالحج 1447 ہجری کا چاند کب نظر آنے کا امکان ہے؟ سپارکو نے ممکنہ تاریخ بتا دی
-
پی ڈی ایم اے پنجاب کا صوبہ بھر میں آندھی اور بارشوں کے متعلق الرٹ
-
مزید 191 غیر قانونی ہاؤسنگ سوسائیٹیاں سامنے آ گئیں



















































