پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

سیاستدانوں کی سرپرستی میں پاکستانی لڑکیاں سری لنکا سمگل کرنیکا انکشاف

datetime 6  اپریل‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) سری لنکن جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان سے نوعمر لڑکیوں کو سری لنکا اسمگل کیا جا رہا ہے، ان نو عمر لڑکیوں کو پرکشش ملازمت کا جھانسہ دے کر سیاحتی ویزے کے ذریعے سری لنکا میں داخل کیا جاتا ہے، پھر ان سے نائٹ کلبوں میں رقص اور جسم فروشی کرائی جاتی ہے۔ گینگ کی سرپرستی لاہور کے طاقتور سیاستدان کر رہے ہیں۔ سری لنکا کے ہفت روزہ جریدے”دی سنڈے لیڈر“ نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ محکمہ امیگریشن اور تارکین وطن کے خصوصی تحقیقاتی یونٹ نے ایک وسیع پیمانے پر انسانی اسمگلنگ نیٹ ورک کا انکشاف کیا ہے، جس میں پرکشش نو عمر لڑکیاں جنسی تجارت کے لئے پاکستان سے سری لنکا اسمگل کی جا رہی ہیں۔ حالیہ چھاپوں میں پانچ پاکستانی لڑکیوں کو گرفتار کیا گیا، جن کی عمریں16 سے 25سال کے درمیان ہیں

مزید پڑھئے:بھارت میں دادی نے اپنی پوتی کو جنم دے دیا

۔ رپورٹ کے مطابق لاہور کے طاقتور علاقائی سیاستدان سمیت ایک گروہ اس انسانی سمگلنگ کے کاروبار میں ملوث ہے۔ تفتیش سے پتہ چلا کہ چار پاکستانی ان لڑکیوں کو سری لنکا بھیجنے میں ملوث ہیں۔ جیسے ہی پاکستانی لڑکیا ں گرفتار ہوئیں، گروہ کے اہم ملزم سمیت دو افراد ملک سے فرار ہو گئے، تاہم محکمہ امیگریشن نے کولمبو ائیرپورٹ پر دو مشتبہ افراد کو گرفتار کرلیا، جب وہ فرار ہونے کی کوشش میں تھے۔ مشتبہ افراد کی تفتیش میں انہوں نے انکشاف کیا کہ گزشتہ ماہ سے ہی انہوں نے ریکیٹ کا آغاز کیا اور اس نیٹ ورک کو ایک طاقتور علاقائی پاکستانی سیاست دان کے ذریعے لاہور سے چلایا جارہا ہے اور زیر حراست لڑکیوں کا تعلق بھی لاہور سے ہے۔ سری لنکا بھیجنے سے پہلے وہ علاقائی پام اسٹیٹ کام کرتی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق ان لڑکیوں کو سیاستدان کے ذریعے بھرتی کیا جا رہا ہے، اس کے بعد انہیں نائٹس کلبوں میں رقاصہ کے لئے سری لنکا اسمگل کردیا جاتا ہے۔ پاکستانی قانون کے مطابق 18سال سے کم لوگوں کو پاسپورٹ حاصل کرنے کی اجازت نہیں۔ ان نو عمر لڑکیوں کو سری لنکا بھیجنے کے لئے جعلی دستاویزات تیار کی جاتی ہیں۔ انہیں سری لنکا میں سیاحتی ویزا کے ذریعے داخل کیا جاتا ہے اور اس طرح لڑکیوں کو غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث کردیا جاتا ہے۔ حال ہی میں گینگ کی گرفتار ہونے والی لڑکیاں 23فروری کو سری لنکا میں داخل ہوئیں تھیں۔ انہیں دہیوالہ میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ میں ماہانہ ایک لاکھ روپے کرائے پر ٹھہرایا گیا

مزید پڑھئے:”شوہر سو کر اٹھتا ہی نہیں“ مصر کی دلہن نے بالآخر طلاق لے لی

۔ ان کو کولوپیٹیا کے نائٹ کلبوں میں رقاصہ کے طور پر ملازمت دی گئی اور ان سے جسم فروشی کرائی گئی۔ رپورٹ سے مزید پتا چلا کہ ایک لڑکی ایک شب کے پانچ سو ڈالر وصول کرتی ہے۔ تفتیش کے مطابق ریکٹ والے ایک لڑکی سے ایک رات کا 55ہزار روپے کماتے ہیں۔ یہ گینگ مقامی سری لنکن سے نہیں بلکہ غیر ملکیوں کو اپنا گاہک بناتے ہیں۔ زیر حراست دو مشتبہ اور دو نو عمر لڑکیوں کو میری ہانہ پناہ گزین کیمپ میں رکھا گیا ہے، جبکہ رپورٹ میں پاکستانی سیاستدان کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…